کوئی بھی ملک پاکستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا ایشیا کپ کس ملک منتقل ہونے والا ہے، افسوسناک خبر

0


دوبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے پاکستان ٹیم بھیجنے سے مسلسل انکار کے بعد ایشیا کپ کے پاکستان سے سری لنکا منتقل ہونے کے امکانات ہیں۔ بھارتی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بنگلہ دیش ، سری لنکا اور افغانستان نے نے بھی بھارت کے ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کے بعد ایشیا کپ کی کسی اور ملک میں منتقلی کی حمایت کی تھی جس کے بعد اب ایشیا کپ پاکستان سے سری لنکا منتقل ہوجائے گا اور رواں ماہ کے آخر میں اس حوالے سے ایشیائی کرکٹ کونسل اپنا فیصلہ سنا دے گی۔ بھارتی میڈیا نے بتایا کہ پاکستان کے تجویز کردہ ہائبرڈ ماڈل کی حمایت بھارت کے علاوہ بھی کسی رکن بورڈ نے نہیں کی ۔ جس کے تحت پاکستان کو اپنے میچز پاکستان میں جبکہ بھارت کو یو اے ای میں کھیلنا تھے۔  ایسی صورتحال میں پاکستان ایشیا کپ میں حصہ لے گا یا نہیں، یا اس صورتحال کے بعد پاکستان ورلڈ کپ کھیلنے اپنی ٹیم بھارت بھیجے گا یا نہیں۔پی سی بی نے اس حوالےسے اپنا کوئی بھی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔

 بھارت کے ایشیا کپ کے لیے ٹیم پاکستان بھیجنے سے مسلسل انکار کے بعد ایشین کرکٹ کونسل نے ٹورنامنٹ کو پاکستان سے کسی دوسرے ایشیائی ملک میں منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس سلسلے میں سری لنکا کو موزوں ترین وینیو قرار دیا جارہا ہے۔بھارتی میڈیا  کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ستمبر میں شیڈول ایشیا کپ میں شرکت کے لیے بھارت کی جانب سے ٹیم بھیجنے سے مسلسل انکار کے بعد ایشین کرکٹ کونسل نے ٹورنامنٹ کو پاکستان سے باہر منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ ایشیا کپ پاکستان سے سری لنکا منتقل کردیا جائے۔ا س سلسلے میں ایشین کرکٹ کونسل کی جانب سے رواں ماہ کے آخر تک  میزبان ملک کا اعلان متوقع ہے۔واضح رہے کہ  سری لنکا، بنگلادیش اور افغانستان بھی ایشیا کپ  پاکستان سے منتقل کرنے کی حمایت کرچکے ہیں۔پی سی بی کی جانب سے ابھی اس ضمن میں کوئی ردعمل سامنے نہیں  آیا ہے کہ ایشیا کپ کی منتقلی کی صورت میں پاکستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں شریک ہوگی یا نہیں۔ قبل ازیں بھارتی ٹیم کے ایشیا کپ کے لیے پاکستان آنے سے انکار کے بعد  پی سی بی نے بھارت میں ہونےو الے ایک  روہ ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ایشین کرکٹ کونسل  کے ایک ذریعے نے  پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ پی سی بی چیئرمین کی اس تجویز پر بھی کسی رکن ملک نے  مثبت ردعمل ظاہر نہیں کیا کہ پاکستانی ٹیم اپنے میچ پاکستان میں اور بھارت متحدہ عرب امارات میں کھیلے۔






ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !