بالی نائن کے پانچ ارکان کی رہائی: 19 سال بعد آسٹریلیا واپسی

0

آسٹریلیا اور انڈونیشیا کے درمیان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہونے والے ایک معاہدے کے تحت بالی نائن منشیات اسمگلنگ گروپ کے پانچ ارکان کو رہا کرکے آسٹریلیا واپس بھیج دیا گیا ہے۔ آسٹریلوی وزیرِاعظم اینتھونی البانیز نے اتوار کو ان کی واپسی کی تصدیق کی۔



انیس سال بعد رہائی پانے والے ارکان


رہا ہونے والوں میں اسکاٹ رش، میتھیو نورمن، سی یی چن، مارٹن اسٹیفنز، اور مائیکل زوگج شامل ہیں، جنہوں نے انڈونیشیا میں تقریباً دو دہائیوں تک قید کاٹی۔ ان کی سزا کم کرتے ہوئے یہ شرط رکھی گئی کہ وہ آسٹریلیا میں بحالی کے عمل سے گزریں گے۔


2005 میں ان افراد کو 8.3 کلوگرام ہیروئن بالی سے آسٹریلیا اسمگل کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انڈونیشیا کے سخت منشیات قوانین کے تحت انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم ان کی سزا 20 سال میں تبدیل کی گئی۔ انڈونیشیا سے ان کی رہائی کے ساتھ یہ طے پایا کہ وہ دوبارہ انڈونیشیا نہیں جا سکیں گے۔


آسٹریلیا اور انڈونیشیا کا انسانی ہمدردی پر مبنی معاہدہ


وزیرِاعظم البانیز نے انڈونیشیا کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو کی ہمدردی کی تعریف کی۔

"یہ اقدام آسٹریلیا اور انڈونیشیا کے مضبوط تعلقات اور باہمی احترام کی عکاسی کرتا ہے۔ ان آسٹریلوی شہریوں نے 19 سال سے زیادہ جیل میں گزارے، یہ وقت تھا کہ انہیں گھر واپس لایا جاتا،" وزیرِاعظم البانیز نے کہا۔


اس معاہدے کو "قیدیوں کی منتقلی" قرار نہیں دیا گیا بلکہ یہ دونوں ممالک کے قانونی نظام میں فرق کی وجہ سے ایک منفرد اور انسانی ہمدردی پر مبنی معاہدے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


بحالی کا عمل اور حکومتی مدد


آسٹریلیا واپسی کے بعد یہ افراد حکومتی زیرِنگرانی بحالی کے پروگراموں کا حصہ ہوں گے۔ حکومت نے ان کے لیے مختصر قیام کے انتظامات کیے ہیں اور طبی و دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ رہائی کے بعد ان کی سزا کو مکمل تصور کیا جائے گا، تاہم ان کے مقام کو راز میں رکھا گیا ہے۔


منشیات کے خلاف سخت مؤقف برقرار


آسٹریلیا اور انڈونیشیا منشیات اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات پر متفق ہیں۔ وزیرِاعظم البانیز نے منشیات کے خطرے کے حوالے سے دونوں ممالک کے مشترکہ تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے پر تعاون جاری رہے گا۔


بالی نائن کی واحد خاتون رکن رینائے لارنس 2018 میں رہا ہوکر آسٹریلیا واپس آ چکی ہیں، جبکہ دو ارکان اینڈریو چان اور میوران سکوماران کو 2015 میں سزائے موت دی گئی، جس پر بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کی گئی تھی۔


دو دہائیوں کا ایک اہم باب ختم


یہ معاہدہ آسٹریلوی وزیر داخلہ ٹونی برک اور انڈونیشیا کے ہم منصب کے درمیان طے پایا۔ یہ بالی نائن کیس کے ایک طویل باب کا اختتام ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں کئی سالوں تک ایک اہم موضوع رہا۔ انسانی ہمدردی پر مبنی اس معاہدے کو سفارتی تعلقات میں نئے مواقع پیدا کرنے کی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


ٹیگز:

بالی نائن رہائی، آسٹریلیا انڈونیشیا تعلقات، منشیات اسمگلنگ کیس، اسکاٹ رش رہائی، بالی نائن آسٹریلیا واپسی، انسانی ہمدردی معاہدہ، انڈونیشیا منشیات قوانین، بالی نائن تازہ خبریں، منشیات اسمگلنگ سزا


ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !