سائیکلون چیدو، جسے مایوٹ میں گزشتہ صدی کا سب سے تباہ کن طوفان قرار دیا جا رہا ہے، نے جزیرے کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ ابتدائی اندازے کے مطابق، اس قدرتی آفت کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو سکتے ہیں جبکہ ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔
ہفتے کے روز مایوٹ میں سائیکلون چیدو نے تباہی مچائی، 226 کلومیٹر فی گھنٹہ (140 میل فی گھنٹہ) کی تیز ہواؤں کے ساتھ درختوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا، مکانات تباہ کر دیے اور جزیرے کے پہلے سے کمزور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا۔ راستے بند ہونے، اسپتالوں کو نقصان پہنچنے اور پورے محلے تباہ ہونے کی اطلاعات منظر عام پر آئی ہیں۔
بڑھتی ہوئی ہلاکتیں اور متاثرہ انفراسٹرکچر
مایوٹ کے پریفیکٹ، فرانسوا زاویئر بیوویل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اب تک 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، لیکن بیوویل نے خبردار کیا کہ یہ تعداد سینکڑوں یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
ہلاکتوں کا حتمی اندازہ لگانے میں مشکلات کی ایک وجہ مقامی روایات ہیں، کیونکہ مایوٹ کی اکثریتی مسلم آبادی عام طور پر 24 گھنٹوں کے اندر میت کو دفن کر دیتی ہے۔ مزید یہ کہ جزیرے میں رہنے والے تقریباً 1 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن امداد کے حصول سے گریز کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ ایک "جال" ہو سکتا ہے تاکہ انہیں مایوٹ سے نکال دیا جائے۔
مایوٹ کے دارالحکومت مامودزو کے میئر، امبدیلواحدو سومائیلا نے بتایا کہ 9 شدید زخمی افراد اسپتالوں میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں، جبکہ 246 افراد کو سنگین چوٹیں آئی ہیں۔ اسکول، اسپتال اور مکانات بڑے پیمانے پر تباہ ہو چکے ہیں، اور شہری ناقابلِ بیان نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔
امدادی سرگرمیاں اور بحالی کے اقدامات
پڑوسی علاقوں جیسے ری یونین سے طبی سامان اور عملہ مایوٹ پہنچایا جا رہا ہے۔ اتوار کی دوپہر، ایک ایمرجنسی امدادی طیارہ تین ٹن طبی سامان، خون کی بوتلیں اور 17 طبی عملے کے ارکان کے ساتھ مایوٹ پہنچا۔ مزید دو فوجی طیارے جلد پہنچنے کی توقع ہے۔
ری یونین سے ایک نیوی کا گشتی جہاز بھی روانہ کیا گیا ہے جس میں عملہ اور بجلی کی بحالی کے آلات شامل ہیں۔ ری یونین کے پریفیکٹ پیٹریس لاٹرون کے مطابق، مایوٹ اور ری یونین کے درمیان ایک فضائی اور سمندری پل قائم کیا جا رہا ہے تاکہ امداد اور سامان متاثرہ علاقے میں پہنچایا جا سکے۔
مایوٹ کی کمزور معیشت اور شدید نقصان
مایوٹ، فرانس کا غریب ترین جزیرہ اور یورپی یونین کا سب سے کمزور علاقہ، پہلے ہی بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار تھا۔ کئی علاقوں میں لوہے کی جھونپڑیوں اور کمزور مکانات کے پورے محلے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ شہریوں نے اطلاع دی کہ درخت جڑوں سے اکھڑ گئے ہیں، کشتیاں الٹ گئیں یا ڈوب گئیں، اور بجلی کا نظام مکمل طور پر معطل ہو چکا ہے۔
دیگر متاثرہ علاقے
سائیکلون چیدو نے مایوٹ کے ساتھ ساتھ قریبی کوموروس اور مڈغاسکر جزائر کو بھی نشانہ بنایا۔ کوموروس حکام نے بتایا کہ 11 ماہی گیر لاپتہ ہیں۔ اس کے علاوہ، طوفان موزمبیق میں بھی تباہی کا سبب بنا، جہاں اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2.5 ملین افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
یونیسف کے ترجمان کے مطابق موزمبیق کے شمالی صوبے کابو ڈیلگادو میں کئی مکانات، اسکول اور صحت کے مراکز مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق، اب تک تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی اور بڑھتے ہوئے خطرات
تحقیقات کے مطابق، خطے میں طوفانوں کی شدت ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے بڑھ رہی ہے۔ سائیکلونز جیسے شدید قدرتی آفات غریب ممالک میں بڑے انسانی بحران کا باعث بنتی ہیں، خاص طور پر افریقی ممالک، جو ماحولیاتی تبدیلی میں بہت کم حصہ ڈالتے ہیں لیکن اس کے اثرات کا سب سے زیادہ سامنا کرتے ہیں۔
ترجیحات اور بین الاقوامی امداد
مایوٹ میں ترجیحی بنیاد پر بجلی اور صاف پانی کی فراہمی کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ یورپی یونین کی سربراہ اُرسولا وان ڈر لیین اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے متاثرین کی مدد کا وعدہ کیا ہے۔
ٹیگز
مایوٹ سائیکلون خبریں، سائیکلون چیدو نقصان، فرانس مایوٹ طوفان، موسمیاتی تبدیلی اور سائیکلونز، انڈین اوشین طوفان، کوموروس اور مڈغاسکر تباہی، موزمبیق طوفان اثرات، عالمی ماحولیاتی تبدیلی، ہنگامی امدادی کارروائیاں

