وہ شخص جو پچھلے کئی مہینوں سے پانی میں رہ رہا ہے

0

  ایک جرمن شہری، روڈگیئر کوچ، پاناما کے Puerto Lindo ساحل پر واقع ایک زیرآب کیپسول میں رہ کر زیر آب رہنے کا عالمی ریکارڈ توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


انہوں نے 60 دن سے زائد عرصہ قبل اس کیپسول میں رہنا شروع کیا تھا اور اب گنیز ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بننے کے لیے انہیں چند ہفتے مزید وہاں گزارنے ہوں گے۔



59 سالہ روڈگیئر کوچ نے 26 ستمبر کو اس زیرآب کیپسول میں داخل ہونے کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ 120 دنوں تک وہاں رہیں گے اور 24 جنوری کو باہر نکلیں گے۔


اس سے قبل 2023 میں امریکا کے جوزف ڈیٹوری نے سب سے زیادہ وقت تک زیر آب رہنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا، جب وہ مارچ سے جون تک فلوریڈا کے اسکوبا ڈائیورز کے لیے بنائے گئے جولیس انڈر سی لاجز میں 100 دن گزار چکے تھے۔


روڈگیئر کوچ جہاں مقیم ہیں، وہاں کیپسول کا رقبہ 322 اسکوائر فٹ ہے، جس میں ایک ٹوائلٹ، ٹی وی، کمپیوٹر اور ایکسرسائز بائیک جیسی سہولتیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، شمسی توانائی سے بجلی فراہم کی جاتی ہے اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی سہولت بھی دستیاب ہے۔


روڈگیئر کوچ، جو ایک ایرو اسپیس انجینئر ہیں، نے بتایا کہ انہیں 36 فٹ زیر آب کیپسول میں رہتے ہوئے نہانے کا موقع نہیں ملا ہے۔ یہ کیپسول ایک ٹیوب کے ذریعے پانی کی سطح کے اوپر واقع ایک چیمبر سے جڑا ہوا ہے، جہاں سے ان کے ڈاکٹر، اہل خانہ اور کبھی کبھار صحافی بھی ان سے ملنے آتے ہیں۔


یہ کیپسول 4 کیمروں سے لیس ہے جو روڈگیئر کی روزمرہ کی زندگی کو ریکارڈ کرتے ہیں تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ وہ اس عرصے تک واقعی زیر آب موجود رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کی ٹیم کو ان کی صحت پر نظر رکھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔


روڈگیئر کوچ کا کہنا ہے کہ "مجھے یہاں کوئی بڑی مشکل نہیں پیش آئی، بس بعض اوقات غوطہ خوری کا دل کرتا ہے۔" انہوں نے مزید بتایا کہ زیر آب زندگی شہری زندگی کے مقابلے میں زیادہ پرسکون ہے اور ان کی ٹیم اس تجربے پر تحقیق بھی کر رہی ہے۔


وہ نہ صرف یہ ریکارڈ توڑنا چاہتے ہیں بلکہ انسانوں کو سمندر کے نیچے آباد کرنے کے امکانات کو بھی اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "ہم یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سمندر بھی انسانوں کی آبادکاری کے لیے بہترین جگہ ہو سکتا ہے۔"


ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !