وہ بھکاری جو کروڑوں روپے، کئی فلیٹوں اور دکانوں کا مالک ہے

0

 ممبئی/مانیٹرنگ ڈیسک: سڑکوں پر بھیک مانگنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ لوگ امداد دیتے وقت یہ سوچنے لگتے ہیں کہ کون مستحق ہے، جس کی وجہ سے بعض اوقات حقیقی ضرورت مند افراد امداد سے محروم رہ جاتے ہیں۔



بھارت کے شہر ممبئی میں ایک شخص کو دنیا کا سب سے امیر بھکاری سمجھا جا رہا ہے۔ اس نے صرف بھیک مانگ کر ساڑھے سات کروڑ روپے کی دولت جمع کی اور ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کے دو فلیٹ خریدے۔ بھرت جین کے پاس ایک اسٹیشنری کی دکان بھی ہے، جو اس کی اضافی آمدنی کا ذریعہ ہے۔ جین کا خاندان اس کے بھیک مانگنے کی عادت سے خوش نہیں ہے، لیکن وہ اس عمل پر ثابت قدم ہے۔ بھرت جین کا کہنا ہے، "مجھے بھیک مانگنے میں خوشی ملتی ہے اور میں اسے چھوڑنا نہیں چاہتا۔ میں لالچی نہیں، سخی ہوں اور مندروں میں پیسے دینے کا شوق رکھتا ہوں۔"


بھرت جین روزانہ 12 گھنٹے بھیک مانگتا ہے اور تقریباً 2500 روپے کماتا ہے۔ وہ پچھلے 40 سال سے بھیک مانگ رہا ہے، اور اس کی ماہانہ آمدنی تقریباً 75,000 روپے ہے۔ جین کے پاس دو فلیٹوں کے علاوہ ممبئی کے تھانے علاقے میں دو دکانیں بھی ہیں، جہاں سے وہ 30,000 روپے ماہانہ کرایہ وصول کرتا ہے۔ جین اپنے خاندان کے ساتھ رہتا ہے، جس میں اس کی بیوی، دو بچے، والد اور بھائی شامل ہیں۔ اس کے بچے جو مشہور کانونٹ اسکول میں پڑھتے تھے، اب اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں اور اسٹیشنری کی دکان میں خاندان کی مدد کر رہے ہیں۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !