کیپ ٹائون/ مانیٹرنگ ڈیسک: پاکستان کے خلاف دوسرے ون ڈے میچ میں 97 رنز کی اننگز کھیلنے والے ہینرچ کلاسن کچھ ۔منفی وجوہات کی بنا پر خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں ۔۔کلا سن نے نہ صرف میچ کے دوران بال ٹیمپرنگ کا الزام لگا کر پاکستانی کھلاڑیوں سے تلخ کلامی اور گالم گلوچ کی بلکہ آؤٹ ہونے پر سٹمپس کو بھی ٹھوکر مار دی۔ جس کے بعد انھیں میچ فیس کا پندرہ فیصد بطور جرمانہ اور ایک ڈی میرٹ پوائنٹ ایوارڈ ہوا ۔۔کلاسن کا رویہ اگر مثبت یوتا تو یقیناً انھیں یہ سزا نہ ملتی۔۔ یہ تو طے ہے کہ انھوں نے جو کیا وہ غلط تھا تاہم کلاسن کے کھیل کو دیکھا جائے تو دونوں میچز میں ان کے سوا کسی جنوبی افریقی بلے باز نے 40 کا ہندسہ بھی پار نہیں کیا۔ دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ کلاسن اس طرح کے کھلاڑی ہیں جن کا وکٹ پر موجود ہونا مخالف ٹیم کے گیارہ کھلاڑیوں سمیت پورے ملک کے شائقین کرکٹ پر اپنا دباؤ بنائے رکھتا ہے اور اپنی ٹیم اور ملک کےلیے امید کی سب سے بڑی وجہ ہوا کرتا ہے اور کسی اور وکٹ کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی جتنی ان کی وکٹ کی ہوتی ہے۔ کلاسن کو ہمیشہ میدان میں موجود ایسے پاورہٹر کی حیثیت حاصل ہوتی ہے جسے نہ کسی فیلڈ سیٹنگ کی پرواہ ہوتی ہے نہ ساتھی کھلاڑیوں کے رنز پر انحصار کی فکر ۔ نہ انھیں گراؤنڈ کے چھوٹے بڑے ہونے سے کوئی خاص فرق پڑتا ہے اور نہ ہی مطلوبہ رن ریٹ کے زیادہ ہونے سے پریشانی ہوتی ہے۔ ایسے کھلاڑی ہر اوور میں دو سے تین بار گیند کو ہٹ کر کے گراؤنڈ سے باہر پھینکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں
۔۔ان کی مثال اس بڑے لڑکے کی سی ہوتی ہے جو چھوٹے لڑکوں کے ساتھ کھیل کر ہر اوور میں اتنے چھکے مار رہا ہوتا ہے کہ چھوٹے لڑکوں کوسمجھ ہی نہیں آتا کہ وہ کسی کو باؤلنگ دیں اور کس کو نہیں ۔ وہ کیسے اسے آؤٹ کریں یا کم سے کم دوسری طرف کھڑے سارے کھلاڑیوں کو کیسے آؤٹ کریں کہ اس عذاب سے ان کی جان چھوٹے۔کلاسن نے ورلڈ کپ کے فائنل میں بھی اسی طرح ایک مشکل مقابلہ یکطرفہ کر دیا تھا ۔ بھارت کی ساری امیدیں ختم ہو چکی تھیں لیکن کلاسن کے آؤٹ ہونے کے بعد جنوبی افریقہ دوبارہ وہ مومینٹم حاصل نہیں کر پایا اور بھارت نے ناقابل یقین کامیابی حاصل کر لی ۔

