حسینہ واجد کی بھارت سے بنگلہ دیش کو حوالگی

0

  ڈھاکہ/ نئی دہلی/ مانیٹرنگ ڈیسک: بنگلادیش نے بھارت سے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا باقاعدہ مطالبہ کیا ہے۔ بنگلادیش کی وزارت خارجہ کے مطابق، بھارت سے درخواست کی گئی ہے کہ شیخ حسینہ واجد کو عدالتی کارروائی کے لیے حوالے کیا جائے۔ اس سلسلے میں بنگلادیش کے مشیر خارجہ نے بھارت کو زبانی سفارتی پیغام بھیجا ہے۔قبل ازیں، بنگلادیش کے مشیر داخلہ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) جہانگیرعالم چوہدری نے بتایا کہ بنگلا دیش اور بھارت کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ موجود ہے، اور بنگلادیش اس معاہدے کے تحت کارروائی کرے گا۔



خبر ایجنسی کے مطابق، بھارتی وزارت خارجہ اور شیخ حسینہ کے بیٹے نے بنگلادیش کی درخواست پر فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ تاہم، بھارت نے اس درخواست کی وصولی کی تصدیق کی ہے، اور بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بنگلادیشی ہائی کمیشن سے حسینہ واجد کی حوالگی کے حوالے سے نوٹ موصول ہوگیا ہے، مگر اس معاملے پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔یاد رہے کہ جولائی میں بنگلادیش میں طلبہ کے زیر قیادت کوٹہ سسٹم مخالف مظاہرے شروع ہوئے جو بعد ازاں حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج میں تبدیل ہو گئے۔ بڑھتے عوامی دباؤ اور تشدد کے نتیجے میں، شیخ حسینہ 5 اگست کو ملک سے فرار ہوکر بھارت پہنچ گئیں، جہاں وہ اب تک موجود ہیں۔


شیخ حسینہ نے 2010 میں بنگلادیش کے بین الاقوامی جرائم ٹربیونل (آئی سی ٹی) کو پاکستان سے علیحدگی کے دوران پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کے لیے قائم کیا تھا۔ ان کی حکومت پر انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں، سیاسی مخالفین کی گرفتاریوں اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات ہیں۔ ان کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !