۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، 9 مئی کے واقعے میں سزا یافتہ مجرمان نے معافی اور رحم کی اپیلیں دائر کی تھیں۔ مجموعی طور پر 67 افراد نے رحم کی اپیلیں جمع کروائیں، جن میں سے 48 کیسز کو مزید قانونی جائزے کے لیے "کورٹس آف اپیل" بھیجا گیا۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 19 مجرمان کی اپیلیں منظور کی گئیں، اور انہیں قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد رہا کیا جا رہا ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ معافی کا یہ اقدام ہمارے قانونی نظام کی شفافیت اور انصاف کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے، جو ہمدردی اور رحم کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرتا ہے۔ دیگر مجرمان کی اپیلیں بھی مقررہ وقت میں قانون کے مطابق نمٹائی جائیں گی، جبکہ اپیل کے حق سمیت تمام قانونی سہولتیں انہیں فراہم کی جائیں گی۔
مجرمان کی تفصیلات:
رہائی پانے والے مجرمان میں محمد ایاز، سمیع اللہ، لئیق احمد، امجد علی، یاسر نواز، سعید عالم، زاہد خان، محمد سلیمان، حمزہ شریف، محمد سلمان، اشعر بٹ، محمد وقاص، سفیان ادریس، منیب احمد، محمد احمد، محمد نواز، محمد علی، محمد بلاول، اور محمد الیاس شامل ہیں۔
سزاؤں کی نوعیت:
سمیع اللہ اور محمد ایاز کو بنوں کینٹ اور ایف سی کینٹ پشاور پر حملوں کے لیے 2 سال قید کی سزا دی گئی تھی۔
محمد سلمان، لئیق احمد، اور امجد علی کو فیصل آباد میں آئی ایس آئی آفس پر حملے کے الزام میں 2 سال قید سنائی گئی۔
محمد علی اور محمد الیاس کو دیر اسکاؤٹس ہیڈکوارٹر پر حملے میں 2 سال قید کی سزا ملی۔
محمد وقاص، عاشر بٹ، اور محمد نواز کو گوجرانوالہ کینٹ پر حملوں میں ملوث ہونے پر 2 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
محمد بلاول کو جناح ہاؤس حملے کے الزام میں 2 سال قید کی سزا دی گئی۔
یہ رہائی انسانی ہمدردی اور انصاف کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔

