اسلام آباد/ مانیٹرنگ ڈیسک: جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اور قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کے سابق سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے انکشاف کیا ہے کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو پھانسی سے بچانے کے لیے خفیہ اقدامات کیے تھے، جن میں پاکستان کے چیف جسٹس سے ملاقات بھی شامل تھی۔
ڈاکٹر نسیم اشرف نے اپنی کتاب "رنگ سائیڈ" میں لکھا کہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے صدر بل کلنٹن کو پاکستان کا دورہ کرنے سے روکا تھا، لیکن انہوں نے صرف نواز شریف کو پھانسی کی سزا سے بچانے کے لیے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔ پرویز مشرف کی جانب سے ضمانت ملنے کے بعد، صدر کلنٹن چند گھنٹوں کے لیے پاکستان آئے۔ اس دوران، انہوں نے چیف جسٹس ارشاد حسن خان سے ایک خفیہ ملاقات کی تاکہ یہ یقین دہانی حاصل کی جا سکے کہ نواز شریف کو پھانسی نہیں دی جائے گی۔
کتاب میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ صدارتی ظہرانے کے دوران، صدر کلنٹن واش روم گئے، اور کچھ لمحوں بعد چیف جسٹس ارشاد حسن خان بھی وہاں پہنچے۔ دونوں کے درمیان پانچ منٹ تک بات چیت ہوئی، جس میں صدر کلنٹن نے پوچھا کہ کیا نواز شریف کو پھانسی دی جائے گی؟ چیف جسٹس نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ایسا نہیں ہو گا۔ یہ واقعہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور تاریخی لمحہ تھا۔
ڈاکٹر نسیم اشرف کی کتاب "رنگ سائیڈ" کی تقریب رونمائی پشاور میں منعقد ہو گی، جبکہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی اس کتاب کی رونمائی کی تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔

