واشنگٹن / اسلام آباد: سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل مسترد کر دی، جس کے بارے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی کے حوالے سے درخواست کی سماعت ہوئی، جس کی صدارت جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کی۔ سماعت کے دوران ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور ان کے امریکی وکیل کلائیو اسمتھ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، جبکہ درخواست گزار کے وکیل عمران شفیق اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل بھی موجود تھے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ جو بائیڈن نے ڈاکٹر عافیہ کی رحم کی درخواست مسترد کر دی ہے اور امریکا نے پاکستان کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے کہا کہ امریکا ہمیں ہماری حیثیت دکھا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق امریکی صدر نے اپنے بیٹے کی سزا معاف کر دی، لیکن ہمارے قیدی کو رہائی نہیں دی۔وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے غیر ملکی دوروں کی تفصیلات پر مشتمل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی وزارت خارجہ نے عدالتی سوالات کے جوابات جمع کرائے، اور امریکا میں پاکستانی سفیر کی ڈاکٹر عافیہ کے کیس میں شرکت نہ کرنے پر بھی وضاحت پیش کی گئی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اپنی صدارت کے آخری دنوں میں جو بائیڈن نے اپنے بیٹے سمیت متعدد قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کیے، لیکن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل کے باوجود ان کی رہائی کا حکم نامہ جاری نہیں کیا۔

