سڈنی / مانیٹرنگ ڈیسک: آسٹریلیا اور انڈیا کے درمیان بارڈر-گواسکر سیریز کے آخری ٹیسٹ کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس سیریز میں جہاں حتمی فاتح کا فیصلہ کرنا مشکل ہے، وہیں روز بروز سامنے آنے والے تنازعات اور ڈرامائی واقعات نے شائقین کی دلچسپی کو مزید بڑھا دیا ہے۔سڈنی میں کھیلے گئے پانچویں ٹیسٹ کے پہلے دن کا آغاز اور اختتام دونوں ہی کافی ڈرامائی رہے۔ دن کا آغاز اس خبر سے ہوا کہ روہت شرما نہ صرف انڈیا کی قیادت نہیں کریں گے بلکہ انہوں نے "آرام" کا فیصلہ کیا ہے۔ دن کا اختتام 19 سالہ اوپنر سیم کونسٹاس اور جسپریت بمرا کے درمیان تلخ کلامی اور بمرا کی گیند پر عثمان خواجہ کے آؤٹ ہونے پر ہوا۔
مارک ٹیلر نے روہت شرما کے آرام کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی کپتان سیریز کے آخری اور اہم میچ میں خود سے آرام کا فیصلہ نہیں کرتا، ان کے خیال میں روہت کو ناقص کارکردگی کے باعث ڈراپ کیا گیا ہے۔سیریز میں روہت کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے، پانچ اننگز میں صرف 31 رنز بنانے پر ان پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید ہوئی، جہاں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ بولر جسپریت بمرا نے ان سے زیادہ رنز بنائے ہیں۔ تاہم ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے روہت کے آرام یا ڈراپ کیے جانے پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔
انڈیا کی بیٹنگ پر اس تبدیلی کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔ پہلی اننگز میں ٹیم صرف 185 رنز پر آؤٹ ہو گئی، جبکہ روہت کی جگہ آنے والے شبمن گل نے بھی محض 20 رنز بنائے۔ انڈیا کا ٹاپ آرڈر ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہوا، اور مچل اسٹارک اور سکاٹ بولینڈ کی شاندار گیند بازی کے سامنے لڑکھڑا گیا۔انڈیا کی اننگز کے دوران متعدد متنازع فیصلے دیکھنے کو ملے، جن میں واشنگٹن سندر کو تھرڈ امپائر کے مشکوک فیصلے پر آؤٹ دیا جانا شامل ہے۔
آسٹریلیا کی اننگز کا آغاز نوجوان سیم کونسٹاس نے دلیرانہ انداز میں کیا، لیکن دن کے اختتام پر عثمان خواجہ، بمرا کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آسٹریلیا اپنی پہلی اننگز میں کیسی کارکردگی دکھاتا ہے۔

