چین شمال مشرقی بھارت پر قبضہ کرتا چلا جا رہاہے، چھینے گئے 11علاقوں کے نام بھی رکھ دیے

0

نئی دہلی /بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت نے سرحد کے قریب واقع کچھ علاقوں کے نام تبدیل کرنےکے چین کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے انھیں بریاست اروناچل پردیش کا حصہ قرار دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت نے چین کی طرف سے ان علاقوں کے نام تبدیل کرنے کو مسترد کر دیا ہے جنہیں بھارت اپنی مشرقی ریاست اروناچل پردیش کا حصہ تسلیم کرتا ہے، تاہم اس کے برعکس چین نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس کے علاقے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ اس وقت ہوا جب چین کی شہری امور کی وزارت نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس نے 11 مقامات کے نام تبدیل کیے ہیں جن میں پانچ پہاڑ بھی شامل ہیں جس کے بارے میں چین کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی تبت کا حصہ ہیں۔چین کے اس بیان کے ساتھ ایک نقشہ بھی شامل تھا جس میں دکھایا گیا تھا کہ چین نے 11 علاقوں کا نام تبدیل کر کے ’زنگنان‘ یا چینی زبان میں جنوبی تبت کے ماتحت رکھا ہے جہاں اروناچل پردیش کو جنوبی تبت میں شامل کیا گیا ہے اور بھارت کے ساتھ چین کی سرحد کو دریائے برہم پترا کے بالکل شمال کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے، تاہم بھارت نے اس عمل کو مسترد کردیا ہے۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’اروناچل پردیش بھارت کا اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصہ تھا، ہے اور رہے گا‘۔ادھر چینی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ علاقوں کے ناموں کی تبدیلیاں مکمل طور پر چین کی خودمختاری کے دائرہ کار میں ہیں۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ جنوبی تبت کا علاقہ چین کا حصہ ہے۔خیال رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان گزشتہ کچھ سالوں سے مختلف امور پر سیاسی، سفارتی اور فوجی محاذ آرائی کا سلسلہ جاری ہے۔

2020 میں لداخ کے علاقے میں دو طرفہ تصادم کے نتیجے میں کم از کم 24 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے لیکن سفارتی اور عسکری مذاکرات کے بعد معاملات معمول پر آگئے تھے۔اسی طرح گزشتہ برس دسمبر میں اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں دونوں اطراف کے فوجیوں میں تنازع ہوا تھا۔بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ لداخ میں حالات نازک اور خطرناک ہیں جہاں کچھ علاقوں میں فوجی دستے ایک دوسرے کے بہت قریب تعینات کیے گئے تھے۔۔واضح رہے کہ بھارت اور چین 1962میں 3800کلو میٹر لمبی سرحد کے اطراف میں واقع علاقوں پر جنگ بھی لڑچکے ہیں ۔حالیہ برسوں میں بھی سرحدی تنازعات پر دونوںطرف کشیدگی ہے۔خود بھارتی عوام چین کی جانب سے 90ہزار مربع کلو میٹر کے علاقے پر قابض ہونے پر اضطراب کا شکار ہیں۔



ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !