سری لنکا 1996کا ورلڈ کپ عمران خان کی بات نہ ماننے کی وجہ سے جیتا
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ ، سیف اعوان)آج سے 24سال پہلے دنیاکے نقشے پر موجود ایک چھوٹے سے جزیرے سری لنکا نے دنیا کے ایک براعظم آسٹریلیا کو ہر ا کر ورلڈ کپ جیت لیا اور پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔لیکن سری لنکا کو عالمی چیمپئین بنوانے والے سابق کپتان ارجنا راناٹنگا نے اب ایک ایسا انکشاف کرڈالاہے کہ دنیائے کرکٹ حیرت زدہ رہ گئی ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں رانا ٹنگا نے بتایا کہ ہمیں فائنل میچ سے پہلے عمران خان نے ایک مشورہ دیا تھا۔ جسے اگر ہم مان لیتے تو شاید ورلڈ کپ نہ جیت پاتے۔
میں یہاں آپ کو بتاتا چلوں کہ سری لنکا کی ٹیم ورلڈ کپ جیتنے سے کچھ عرصہ پہلے تک دنیا کی کمزور ترین ٹیموںمیں سے ایک تھی۔ جسے کوئی بھی ٹیم آسانی سے ہرا دیتی تھی۔ لیکن 1995وہ سال تھا جب اس ٹیم نے دنیا کو اپنی خطرناکی سے آگاہ کرنا شروع کردیا تھا۔1995کے موسم سرما میں یہ ٹیم پاکستان آئی تو پاکستان کو اس کی اپنی سرزمین پر ٹیسٹ اور ون ڈ ے سیریز ہرا کر چلی گئی۔اس پر ہر شخص حیران تھا کہ ان کھلاڑیوں نے اچانک ایسا کیا کھا لیا ہے کہ جادوئی حد تک اچھی کارکردگی دکھانا شروع کردی۔سری لنکا کے پاس صرف دو فاسٹ بائولرز تھے ۔لیکن ان کا سارے کا سارا دارو مدار چار ورلڈکلا س سپنرز پر ہوتا تھا۔جبکہ سری لنکا کی بیٹنگ لائن اپ دو برق رفتار آغاز فراہم کرنے والے بلے بازوں جے سوریا اور کالو وتھرناجبکہ اروندا ڈی سلوا ،گرو سنہا ، رانا ٹنگا، مہانمہ اور ہسان تلیکا رتنے جیسے مستند مڈل اور لوئر مڈل آرڈر پر مشتمل تھی۔ اس کےچند ہی ہفتوں کے بعد ورلڈ کپ 1996شروع ہوا اور سری لنکا نے اس ایونٹ کے سارے میچ جیتنےکا ایک منفرد ریکارڈ قائم کرڈالا۔ سری لنکا نے بھارت کو سیمی فائنل میچ میں اس کے ہوم گرائونڈ پر ایک بہت بڑے کرائوڈ کے سامنے ایک بہت بڑے مارجن سے شکست دی اور فائنل میں سری لنکا کا میچ آسٹریلیاکے ساتھ تھا۔رانا ٹنگا کہتے ہیں کہ فائنل میچ سے تین دن پہلے ہم لاہور پہنچ گئے تھے اورگرائونڈ کاجائزہ لینا شروع کردیا تھا۔اس دوران ہم نے نوٹ کیا کہ شام کے وقت گرائونڈ گیلا ہوجاتا تھا۔ ہم نے گرائونڈز مین سے پوچھا کہ شام کے وقت گرائونڈ کی صورتحال کیا ہوتی ہے۔ اس پر ہمیں بتایا گیا کہ شام کےوقت یہاں شبنم پڑتی ہے، اس کے اگلے روز بھی ہم نے شام کو گرائونڈ کا چکر لگایا تو دیکھا کہ سارے کا سارا گرائونڈ گیلا تھا۔جس پرہم نےکھلاڑیوں سے مشورہ کرنا شروع کردیا کہ ٹا س جیت کر کیا کیا جائے۔ سوائے اروندا ڈی سلوا کے ہر کھلاڑی کی رائے یہی تھی کہ پہلے بائولنگ کی جائے۔لیکن پھر میں کنفیوژن تھی۔17مارچ کو فائنل کے روز ٹاس سے پہلے میری ملاقات سابق پاکستانی کپتان عمران خان سے ہوئی۔ میں نےان سے مشورہ مانگا کہ ہم ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کریں یا پھر بائولنگ؟ انھوںنے کہا کہ یہ وکٹ بیٹنگ کےلئے بہت اچھی ہے۔ اگر آپ 250یا 260رنز بنانے میںکامیاب ہو گئے تو میچ جیتنا یقینی ہوجائے گا۔ اس پر میں بے حد پریشان ہو گیا۔ اور واپس آکر کھلاڑیوں کو بتایا کہ عمران خان نے بھی پہلے بیٹنگ کا مشورہ دیا ہے۔ اس پر اروندا ڈی سلوا نے پھر کہا کہ میرا بھی یہی خیال ہے کہ پہلے بیٹنگ کی جائے۔ لیکن باقی کھلاڑیوں نے وہی موقف دوہرایا کہ ہم نے جو پلان بنایا تھا اسی پر چلنا چاہیے۔ ہم جتنے بھی رنز بنا لیں، شام کو شبنم پڑے گی تو بالروں کےلئے گیند کو پکڑنا مشکل ہوجائے گا۔ اس لئے پہلے بائولنگ ہی کی جائے۔چنانچہ یہی فیصلہ ہوگیا۔ اب سب کچھ ٹاس پر منحصر تھا جو خوش قسمتی سے ہم نےجیت لیا۔ او رپہلے بائولنگ کا فیصلہ کر لیا۔ڈرائی کنڈیشنز میں ہمارے سپنروںنے بہت اچھی گیندبازی کی اور آسٹریلیا کوئی بڑا ٹارگٹ نہ دے سکا۔ اس لئے ہم نے آسانی نےمیچ جیت لیا۔اب میں سوچتا ہوں کہ اگرہم پہلے بیٹنگ کا مشورہ مان لیتے تو سری لنکا کبھی ورلڈ کپ نہ جیت پاتا۔

