نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی کرکٹر سارو گنگولی میں 2004میں ٹیم انڈیا کےہمراہ دورہ پاکستان کی اپنی یا د کو دوہراتے ہوئے بتاتے ہیںکہ یہ میرا پہلا دورہ پاکستان تھا۔ اور میں لاہور گھومنا چاہتا تھا۔لیکن سکیورٹی اداروں کی طرف سے ہمارے گھومنے پھرنے پر پابندی تھی۔ اس لیے میں نے سکیورٹی والوں کو چکمہ دیا ۔ ہیٹ اور عینک پہنی ، ایک کار پکڑی اور لاہور کی لبرٹی مارکیٹ اور انارکلی بازار میں گھومنے نکل گیا۔ ان دنوں مارکیٹس کو دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔میں نےاپنی ٹیم مینجمنٹ کو اعتماد میں لے رکھا تھا کہ جلدی واپس آجائوں گا لیکن نہ جانے سکیورٹی انٹیلی جنس کو کیسے میرے باہر نکلنےکی بھنک پڑ گئی ۔تب میرےموبائل فون پر ایک کال آئی۔ دوسری طرف پاکستان کےصدر پرویز مشرف تھے جنھوںنے مجھ سے پوچھا کہ آپ اس وقت کہاں ہیں۔میں نے انھیں بتایا کہ میں تھوڑا ایڈونچر کرنے نکلا ہوں۔ جس پر پرویز مشرف نے مجھے کہا کہ مسٹر سارو! آ پ یہاں اس قسم کے ایڈونچر نہ ہی کریں تو اچھا ہوگا۔ آپ فوری طور پر واپس جائیں۔ جس پر مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور میں واپس چلا گیا۔

