2019میں ہیلی کاپٹر گرانے کا حکم دینے والے بھارتی فضائیہ کے افسر کی کہانی

0

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی فوج نے سال 2019میں پاک فضائیہ کے دبائو کی وجہ سے اپنے ہی ہیلی کاپٹر کو مارگرانے والے بھارتی فضائیہ کے گروپ کیپٹن سمن چودھری کو نوکری سے برطرف کردیا ہے۔ گروپ کیپٹن سمن چودھری نے اپنے ہی ہیلی کاپٹرکو مار گرانے کا حکم دیا تھا جس کے نتیجہ میں آئی اے ایف کے چھ اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ فروری 2019می پاک بھارت کشیدگی کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر ایم آئی 17ملٹری فلائیٹ آپریشن کے سلسلےمیں پرواز پر تھا ۔ گروپ کیپٹن سمن چودھری نے بحیثیت کمانڈنگ آفیسر اس طیارے کو مار گرانے کا حکم دے دیا۔ ہیلی کاپٹرراکٹ فائر سے نشانہ بنایا گیا۔ ادھر پاکستانی ائیر فورس نے آئی اے ایف کا مگ 21طیارہ جیسے ونگ کمانڈر ابھی نندن رتھامن اڑا کرپاکستان میں داخل ہوئے تھے، مار گرایا ، اور ابھی نندن رتھامن کو گرفتار کر لیا گیا۔ پے درپے ان دونوں واقعات پر بھارت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑاتھا۔ مقبوضہ کشمیر میں ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کے واقعہ پر بھارتی عسکری حکام نے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جس نے گروپ کیپٹن سمن چودھری سے اپنی ہی فضائیہ کا طیارہ مارگرانے کا حکم دینے کی وجہ پوچھی گئی تو آئی اے ایف آفیسر نے بتایا کہ پاک فضائیہ کی جانب سے مگ 21طیارہ گرائے جانے کے واقعے پر وہ خاصا دبائو میں تھااور جب ریڈار پر ایم آئی 17ہیلی کاپٹر کی موجودگی کی اطلاع ملی تو اعصابی دبائو کی وجہ سے وہ اسے بھی ایک پاکستانی ہیلی کاپٹر سمجھاجو ہماری حدود میں گھس آیا تھا چنانچہ میں نے اسے مار گرانےکا حکم دیا۔ تاہم اس پیشہ ورانہ نااہلی اور اعصاب پر قابو پانے جیسےجنگی مہارت کے بنیادی اصول سے نابلد ہونے کی بنا پر گروپ کیپٹن سمن رائے چودھری کو نوکری سے برطرف کردیا گیا۔ جبکہ ائیر ٹریفک کنٹرولر ونگ کمانڈر شیام نتھیانی کی تنزلی کا حکم دے دیا گیا۔






ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !