اسلام آباد (سپورٹس ڈیسک ) سری لنکن سٹار بلے باز سنتھ جے سوریا کا شمار کرکٹ کی تاریخ کے انتہائی جارح مزاج بلے بازوں میں ہوتا ہے. جے سوریا اور رمیش کالووتھرنا نے اوپنرز کی حیثیت سے تیز رفتار بلے بازی کرکے ون ڈے کرکٹ کو ایک نیا ٹرینڈ دیا. اور اسی جارح مزاجی نے سری لنکا کو 1996 کا ورلڈ کپ جیتنے میں مدد دی. اسی ورلڈ کپ کے فوراً بعد اپریل 1996 میں مشرقی ایشیائی ملک سنگا پور میں سنگر کپ کے نام سے ایک تین ملکی کرکٹ ٹورنامنٹ ہوا. جس میں پاکستان بھارت اور سری لنکا نے شرکت کی. ابتدائی میچ میں پاکستان کو سری لنکا سے شکست ہوئی. اور جے سوریا نے اس میچ میں صرف 48 گیندوں پر سنچری بنا کر اس وقت کا تیز ترین سنچری کا ریکارڈ قائم کر دیا تھا. بعد میں یہی دو ٹیمیں ایونٹ کے فائنل میں آمنے سامنے تھیں جہاں پاکستان پہلے بیٹنگ کر رہا تھا. لیکن سری لنکا کے تیز اور سپن گیند بازوں نے انتہائی شاندار گیند بازی کر کے پاکستان کو صرف 215 رنز پر آؤٹ کر دیا. اعجاز احمد 51 رنز بنا کر نمایاں رہے. اب سری لنکا جیسی خوفناک بیٹنگ لائن اپ کو دیکھتے ہوئے پاکستان کا سکور شرمناک حد تک معمولی دکھائی دے رہا تھا. اوپر سے جے سوریا، کالووتھرنا ، ارونڈا ڈی سلوا، مہانامہ، گرو سنگھا، تلکا رتنے اور کپتان ارجنا رانا ٹنگا ان دنوں جس خطرناک فارم میں تھے. شاید ہی کسی کو گمان بھی ہوتا کہ کوئی معجزہ بھی ہو سکتا ہے. خیر سری لنکن اوپنرز میدان میں اترے. اور جے سوریا نے پاکستانی گیند بازوں کا وہی حشر کرنا شروع کر دیا جو چند روز قبل کیا تھا. ہر اوور میں چھکوں اور چوکوں کی بوچھاڑ شروع ہوگئی.. وقار یونس، عاقب جاوید، ثقلین مشتاق، عامر سہیل سب کی گیندیں گراونڈ سے باہر جا کر گرتیں. جے سوریا بنا کوئی زور لگاے کریز میں کھڑے کر خاص طور پر آن سائیڈ پر ایسے جلاد بنے ہوئے تھے کہ گیارہ کے گیارہ پاکستانی کھلاڑی مکمل طور پر بے بس دکھائی دیتے تھے. گراونڈ کے کھچا کھچ بھرے ہوئے سٹینڈز میں صرف اور صرف سری لنکن جھنڈے لہراتے دکھائی دیتے تھے. اسی دھواں دھار بیٹنگ کے دوران جے سوریا نے 17 گیندوں پر نصف سنچری بنا کر ایک اور عالمی ریکارڈ قائم کر دیا. . تب 6 اوورز میں 70 سکور ہوگیا جو آج کل ٹی ٹونٹی میچ میں بنانا بہت بڑا فخر سمجھا جاتا ہے. اور دلچسپ بات یہ کہ دوسری جانب کھڑے کالووتھرنا بغیر کوئی رنز بنائے ہی کھڑے تھے. انھیں عاقب جاوید نے صفر پر ہی بولڈ کر دیا. لیکن جے سوریا نے اپنا لاٹھی چارج جاری رکھا اور وہ 27 گیندوں پر 76 رنز کے سکور پر پہنچ گئے.تب یہ سوچ لیا گیا کہ جے سوریا 48 گیندوں پر سنچری والا چند روز پہلے والا اپنا ہی ریکارڈ بڑی آسانی کے ساتھ توڑنے والے ہیں اور سری لنکا ہدف 15 اوورز میں ہی حاصل کر لے گا کیونکہ 8 اوورز میں 92 رنز بن چکے تھے . لیکن اگلی گیند پر اللہ اللہ کر کے جے سوریا اونچا شاٹ کھیل کر کیچ آؤٹ ہوگئے.. جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ سری لنکا کے پاس ایک طویل بیٹنگ لائن اپ موجود تھی. لیکن قدرت کو پاکستانیوں پر رحم آیا اور ڈی سلوا، رانا ٹنگا اور گرو سنگھا اوپر تلے ثقلین مشتاق کی شاندار سپن باولنگ کی بھینٹ چڑھ کر چلتے بنے. 104 کے مجموعی سکور پر سری لنکا کے پانچ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے، میچ کا سارا منظر نامہ ہی بدل چکا تھا. سری لنکا جس نے 12 کی اوسط سے رنز بنانے کا آغاز کیا تھا اب ان کا رن ریٹ خاصا سلو ہو چکا تھا. تلکا رتنے ہی قابل بھروسہ کھلاڑی بچ گئے تھے. جنھوں نے سکور کو آگے بڑھایا لیکن وکٹیں گرتی رہیں. 172 کے مجموعی سکور پر سری لنکا کی آخری تینوں وکٹیں عطاالرحمان کے ایک ہی اوور میں گریں اس طرح پاکستان نے 43 رنز سے ناقابل یقین فتح اپنے نام کی.
پاکستان ون ڈے ٹورنامنٹ کے فائنل میں 215 رنز بنا کر آؤٹ ہو گیا تھا، جے سوریا نے آتے ہی 28 گیندوں پر 76 رنز کی پھینٹی لگا دی، لیکن پھر کیا ہوا ،ناقابل یقین واقعہ
اپریل 11, 2023
0

