اومان کا ایک ریال پاکستانی 736 روپے بنتے ہیں، اگر آپ کو صرف یہ چندچیزیں. معلوم ہوں تو آپ آسانی سے لاکھوں روپے کما سکتے ہیں م

0

 سقط(مانیٹرنگ ڈیسک) عرب ملک اومان میں لگ بھگ اڑھائی  لاکھ پاکستانی مقیم ہیں۔ یہ ملک پاکستانیوں کےلئے کاروبار اور روز گار کے مواقع کے اعتبار سے انتہائی موافق ہے۔اومان کی کرنسی بھی پاکستانی روپوں میں اچھی خاصی ہے۔اور ایک اومانی ریال پاکستان کے 736روپے کے برابر ہے۔ پاکستانی کمیونٹی کو اومان میں کام کرنے کے حوالے سے وفاقی وزارت امور برائے خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر کچھ خاص ہدایات کی ہیں جن کے بارے میں نہ صرف وہاں پر مقیم پاکستانی کمیونٹی کو معلومات ہونی چاہئیں بلکہ ورک ویزہ پر جانے والوں کو بھی ان  باتوں کی مکمل جانکاری ہونی چاہیے۔

وہ باتیں مندرجہ ذیل ہیں
لباس کا ضابطہ اخلاق:
کئی عرب ممالک کی طرح اومان میں بھی کئی غیر ملکی بستے ہیں۔جو شارٹس (مختصر لباس) پہن کر گھومتے ہیں لیکن پاکستانیوں کو اس حوالے سے اپنی قومی روایات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پورا اور مہذب لباس پہنناچاہیے۔
مساجد: مسلم اکثریتی ممالک ہونے کی وجہ سے اوما ن کے تمام علاقو ں میں مساجد بڑی تعداد میں واقع ہیں۔اس لیے مساجد کے آس پاس جو تکریم او ر تحریم ناگزیر ہے۔ اس کا خیال رکھا جانا چاہیے
دعوت قبول کرنا:
اومان کے مقامی لوگ اپنی مہمان نوازی کی صدیوں پرانی روایات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس لئے وہ انجان اور بالخصوص غیر ملکی افراد کو دعوت کھلانے کےلئے گھروںمیں لے جاتے ہیں۔ اس لئے اگر آپ کو اومانی باشندے کھانے یا میٹھے کی دعوت دیں تو اسے ضرور قبول  کیجئے۔ آپ کے دعوت قبول کرنے کو بھی اومانی عوام اپنے لیے باعث عزت سمجھیں گے۔
زبان کا مناسب استعمال :
اومان میں عوامی مقامات پر زبان اور الفاظ کے مناسب چنائو کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اومانی عوام اس روایت کو زندہ رکھنے کےلئے بے ربط اور  ذو معنی جملوں کی بجائے جامع اور براہ راست جملوں کا چنائو کرتے ہیں۔۔ چنانچہ ایک عوامی مقام پر اچھے اور سلجھے ہوئے الفاظ کو ذریعہ کلام بنائیے۔اور شائستگی کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑیں۔
تصویر بنانے کی اجازت :
اومان میں بنا اجازت لیے کسی بھی شخص کو مقامی افراد کی تصاویر لینا منع ہے۔ تصاویر کی عکسبندی کےلئے اجازت لینا ضرور ی ہے اور اجازت لیے بغیر تصویر بنانا قابل سزا جرم ہیں۔
اومانی قوانین سے آگہی :
کوشش کریں کہ اومان سے متعلق کئی قوانین کے مطالعے کےلئے وقت نکالیں۔ مثلاً سڑکوں کے سائن بورڈز ، ویزہ  ، پاسپورٹ اور کئی دیگر قانونی معاملات کے حوالے سے قوانین۔اومانی ہوٹلوں میں سے اکثریت غیر شادی شدہ جوڑوں یا ہم جنس پرستوں کو رہائش فراہم کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔کیونکہ اومان میں غیر ازدواجی تعلقات قائم کرنا جرم ہے۔
رمضان المبارک کا احترام
ایک مسلم اکثریتی ملک ہونے کے ناطے اومان میں رمضان المبارک کے احترام کو خاص اہمیت حاصل ہے اور اس کے تقدس  سے جڑا ضابطہ اخلاق غیر مسلموں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اس لئے اس کا خاص خیال رکھا جاناچاہیے، مثال کے طور پر
دن کے وقت (روزے کے اوقات میں)سیگریٹ نوشی  ، شراب ، کھانا پینا، بلند آواز میں موسیقی سننا،ناچ یا غیر ضروری اچھل کود  یہ سب وہ باتیں ہیں جن کا خیال مقامی لوگ تو رکھتے ہیں لیکن غیر ملکیوں کو بھی رکھنا چاہیے۔ بہر حال  ہر وہ شخص جو رمضان المبارک کے تقدس کے بارے میں شعوری طور پر جانتا ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔

منشیات اور الکوحل سے پرہیز: اومان میں عوامی مقامات پر منشیات اور الکوحل کے استعمال پر سخت پابندی عائد ہے۔ اگر چہ الکوحل مکمل طور پر ممنوعہ قرار نہیں دی گئی لیکن مارکیٹ، گلیوں ، بازاروں ،پارکوں یا کسی بھی عوامی مقام پر آپ شراب نہیں پی سکتے۔چنانچہ اس سے پرہیز برتیں۔

اسلحہ کی نمائش سے پرہیز :
اومان مشرق وسطیٰ کے پرامن ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ اس لئے کسی بھی قسم کا اسلحہ کھلے عام لے کر گھومنے کی صورت میں آپ کو قید کی سزا یا بھاری بھرکم جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !