پاکستانی عوام عرب ملکوں کے " ماڈرن " ہونے پرپہلے ہی ناراض تھے، ری سہی کسر اطغرل ڈرامے نے پوری کردی، لیکن حقائق کیا ہیں

0

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حالیہ چند برسوں میں عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے کچھ تیز رفتار اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔ جن میں سنیماگھروں کا کھلنا، خواتین کی مختلف شعبوں میں ملازمتیں، ڈرائیونگ اور اکیلا سفر کرنے کی اجازت ، اور روس، چین اور ایران سے تعلقات کے نئے دور کی شروعات۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عربوں کے یہ نئے رنگ ڈھنگ پاکستانیو ں کو کچھ زیادہ پسند نہیں آئے۔ پاکستانی عوام سعودی خواتین کو ملنے والی ان آزادیوں ، اور سنیما گھروں کے قیام کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اور ساتھ یہ پیشگوئی بھی کرتے ہیں کہ یہ باتیں عربوں کی تباہی کی بنیاد بنیں گی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سب چیزوں کی خود پاکستان میں کوئی ممانعت نہیں۔ یہاں سنیما گھر بھی ہیں۔ خواتین ملازمتیں بھی کرتی ہیں۔ ان کے اکیلے آنے جانے پر کسی دور میں بھی سرکاری طور پر کوئی پابندی نہیں رہی۔تو پھر ان کی بنیادوں پر صرف عربوں کی تباہی کی پیشگوئی کیوں کی جاتی ہے۔ اگر ان سب خبائث کا انسداد ضروری ہے تو پھر پہلے انھیں پاکستانی معاشرے سے تو ختم کیا جائے۔پھر عرب ملکوں میں مقیم پاکستانیوں میں سے کچھ ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہتے ہیں جن کی بنیاد پر عرب حکومتیں سخت کارروائیاں بھی کرتی ہیں۔پھر رہی سہی کسر ارطغرل ڈرامے نے پوری کردی ۔جس نے پاکستانیوں میں سے اکثریت کے دلوں میں عربوں کےلئے نفرت پیدا کردی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عرب ممالک خود کفیل ہیں۔ وسائل سے مالا مال ہیں ، اثرو رسوخ رکھتے ہیں ۔ اس لیے حقیقت پسندی سے عربوں کی کامیابیوں کا اعتراف کرنا اور ان کا احترام کرنا ضروری ہے۔ بالخصوص یہ سچ تو ماننا ہی ہوگا کہ ان ملکوں نے ہر طرح کی پریشانی میں پاکستان کی بہت مد د کی۔




ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !