اگر رشوت دیے بغیر کوئی جائز اور انتہائی ضروری کام نہ ہورہا ہو، تو کیا رشوت دی جا سکتی ہے؟ وہ بات جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہیے

0

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) رشوت کا لفظ سن کر ہی چہرے پر ناگواری اور دل میں ناپسندیدگی کے خیالات غالب آجاتے ہیں۔ ایک عام شخص نہ صرف رشوت کے حوالے سے دین اسلام کی تعلیمات سے بخوبی آشنا ہے جو کہتی ہیں کہ رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں بلکہ بالعموم کوئی بھی شخص اپنی جائز اور حق حلا ل کی کمائی کو رشوت کی مد میں دینا انتہائی معیوب سمجھتا ہے۔ لیکن حقیقت پسند ہوکر موجودہ معاشرتی صورتحال کو دیکھا جائے تو ہر شخص کو اپنے جائز اور قانونی کام کاج کےلئے سرکاری محکموں سے واسطہ پڑتا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ  کسی ایک بھی سرکاری محکمے میں رشوت دیے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ رشوت نہ دینے والوں کا کام ہفتوں ، مہینوں اور سالوں تک لٹکا دیا جاتا ہے اور لوگ موسمی سفری، اور جسمانی صعوبتیں برداشت کرتے کرتے آخر کار تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب رشوت دیے بغیر کوئی کام ہو ہی نہیں رہا تو پھر کیا کیا جائے۔ کیا اس حد تک مجبور کردیے جانے کے بعد رشوت دینے والا شخص بھی جہنمی ہی ہوگا ۔اس بارے میں دی فتویٰ ڈاٹ کام کی ویب سائٹ پر مفتی عبدالقیوم ہزاروی  نے سورہ بقرہ کی ایک آیت کا حوالہ دیا ہےجس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

فمن اضطر غير باغ ولا عاد فلا اثم عليه

الْبَقَرَة، 2: 173

"پھر جو شخص سخت مجبور ہو جائے، نافرمانی کرنیوالا اور حد سے بڑھنے والا نہ ہو، تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔


یہ حالت چونکہ اضطراری ہے، لہٰذا اضطراری اور مجبوری کی حالت میں رشوت دینے پر گناہ نہیں۔


 اس لیے علمائے کرام کی رائے ہے کہ اگر کوئی شخص ہر حوالے سے معیار پر پورا اُترنے کے باوجود اپنے حق سے محروم ہو رہا ہو، تو وہ رشوت دے کر اپنا حق لے سکتا ہے، اُس کو رخصت ہے




ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !