بھوپال (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست مدھیہ پردیشن میں کروناوائرس کی بدترین لہر کے دورا ن دو سال قبل مرنے والا ایک 35سالہ شخص اچانک گھر واپس آگیا ہے اور اس کی واپسی بھارتی اور غیر ملکی میڈیا پر ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ 35سالہ کملیش پتی دار آج سے دو سال قبل کرونا کی شدید لہر کے دوران چل بسا تھا ۔ جس کے بعد اس کے اہل خانہ نے حفاظتی تدابیر کی ہدایات کے پیش نظر گائوں سے دور آخری رسومات ادا کر دی تھیں۔ لیکن اتوار کے روز کملیش حیران کن طور پر اپنے گھر واپس آگیا۔ اس کی اہلیہ ریکھا پتی دار نے حیرت اور آنسوئوں کی بارش سے اپنے خاوند کا استقبال کیا۔ ریکھا کا کہناتھا کہ دو سال قبل اس کاخاندان سانحے سے گزرا تھا۔ جس کی تعزیت کےلئے ابھی تک ان کے رشتہ داروں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ اب کملیش کی دو سال بعد واپسی کو دیکھا جائے تو یہی لگتا ہے کہ جب سخت ترین احتیاطی تدابیر میں ہی کملیش کو گائوں سے دور وڈودرا کے علاقے میںکریا کرم کرنے کا کہا گیا۔اسی دوران ہسپتال انتظامیہ کو کوئی غلطی فہمی ہوئی ہوگی اور انھوںنے کسی اور کی لاش ہمارے حوالے کردی۔ لیکن ریکھا کی بات کو اگر سچ بھی مان لیا جائے تب بھی یہ سوال اپنی جگہ پر قائم ہے کہ آخر کملیش چلا کہاں گیا تھا اور وہ دو سال کس کے پاس تھا۔خاندانی ذرائع کے مطابق کملیش اب تک بالکل خاموش ہے۔ اور مقامی پولیس آفیسر رام سنگھ راٹھور کا کہناہے کہ کملیش پتی دار کے بولنے کے بعد ہی صورتحال واضح ہوگی۔

