نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر بلے باز مہندر سنگھ دھونی کو کھیل کے میدان میں بلے اور گلوز سے ان کے کھیل کے علاوہ دوران کھیل ان کی بے پناہ ذہانت اور جادوئی قوت فیصلہ کی بنا کر تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شامل کیا جا تاہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خود اپنی ذات میںکرکٹ کی ایک الگ تاریخ تھے یا تاریخ کا ایک عظیم ترین باب۔ دھونی آئی پی ایل کے موجودہ ایڈیشن میں بھی چنائی سپر کنگ کی قیادت کررہے ہیں اور ان کے کیے گئے فیصلے تاریخ کے ریکارڈ کو بہتر بنا رہےہیں۔ گزشتہ روز ان کی ٹیم نے کولکتہ نائٹ رائیڈر کے خلاف بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی۔ لیکن اس رپورٹ میں بھی میچ کے دوران دھونی کے لیے گئے ریویوز کو سپاٹ لائٹ کیا جائے گا جن کی وجہ سے اب یہ تک کہا جا رہا ہے کہ ڈی آر ایس دراصل دھونی ریویو سسٹم کہا جانا چاہیے کیونکہ دھونی جب کوئی ریویو لے لیں تو پھر امپائر یہ سوچ لے کہ اسے اپنا فیصلہ بدلنا ہی پڑے گا ۔ ان دونوں موقعوں پر بھی یہی ہوا۔ دیش پانڈے کی ایک فل ٹاس بال کو دھونی نے کھیلااور امپائرکی طرف دیکھا کہ شاید گیند نوبال قرار دے دی جائے لیکن امپائر نے اس پر کوئی سگنل نہیں دیا۔ جس کے بعد دھونی نے فوری ریویو لیااور گیند کمر کی اونچائی سے بلند ہونے کی بنا پر نوبال قرار پائی گئی۔ اسی طرح کولکتہ کے ڈیوڈ ویزا ایک گیند ٹانگوں پر کھا بیٹھے۔ اپیل ہوئی لیکن امپائر نے انھیں ناٹ آئوٹ قرار دے دیا۔ لیکن وکٹ کیپر دھونی کی عقابی نظریں سب کچھ ایک لمحے میں ہی بھانپ چکی تھیں اس لئے انھوںنے بلا تامل ریویو لیا اور اگلے ہی لمحے ٹی وی امپائر نے ڈیوڈ ویساکو ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا۔جس پر کمنٹیٹر بھی کہہ اٹھے کہ بھئی اس ڈی آر ایس کو تو دھونی ریویو سسٹم کا مخفف ہی کہنا پڑے گا۔ ریکارڈ کی مانیں تو ایسے 85فیصد فیصلے دھونی کے حق میں اور امپائرز کے خلاف گئے جن میں دھونی نے ریویو لیا۔
ڈی آر ایس کو دراصل دھونی ریویو سسٹم کہا جانا چاہیے کیونکہ دھونی ریویو لے لیں تو پھر امپائر کو اپنا فیصلہ واپس لینا ہی پڑتا ہے کل میچ کے دوران پیش آئے دو واقعات نے دنیا کو حیران کر دیا
اپریل 24, 2023
0

