جب ویو رچرڈز وسیم اکرم کو مارنے کےلئے ڈریسنگ روم آپہنچے وسیم اکرم نے بھاگ کر عمران خان سے بچانے کو کہا تو کیا جواب ملا،دلچسپ واقعہ

0

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ماضی کے عظیم فاسٹ بائولر وسیم اکرم نے انکشاف کیا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے لیجنڈری بلے باز سر ویوین رچرڈ نے انھیں بلے سے مار مار کر قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔سابق بھارتی کرکٹر آکاش چوپڑا کے ساتھ سوشل میڈیا پر لائیو سیشن کے دوران وسیم اکرم نے 1988کے اس واقعے کی یاد یں تازہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارباڈوس میں ہم ٹیسٹ میچ کھیل رہے تھے،میچ کا آخری اوور چل رہا تھا۔ اس وقت میں گیند کو خاصی تیز رفتاری سے پھینکنا سیکھ چکا تھا۔ سر ویو رچرڈ کو میری گیندوں پر رنز بنانے میں مشکلات پیش آرہی تھی۔ میں گیند بازی کے ساتھ ساتھ انھیں ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں گالیاں بھی دے رہا تھا۔جس پر انھوںنے ایک مرتبہ زمین پرتھوکا مجھے یہ کہتے ہوئے وارننگ دی کہ میں تمھارے الفاظ کو سمجھ تو نہیں سکا لیکن یہ جو کچھ تم کررہے ہو ،مت کرو، میں نے کپتان عمران خان سے آکر کہا کہ اس نے مجھے وارننگ دی ہے۔اس پر عمران خان نے مجھے کہاکہ تم اپنی بائولنگ پر دھیان دو۔ میں نے اگلی گیند پر سر ویوچررڈز کو بائونسر پھینکا جس پر وہ نیچے بیٹھ گئے۔ میں نے دوبارہ انھیں گالی دی۔ اس سے اگلی گیند ان ان سوئنگ تھی جسے وہ نہ سمجھتے ہوئے بولڈ ہوگئے۔ میں نے چیخ کر فقرہ کسا۔ گوبیک اینڈ آل۔ میچ کے بعد میں ڈریسنگ روم میں بیٹھا تھکا ہارا اپنے بوٹ اتار رہا تھاکہ ایک لڑکا آیا اور مجھے کہا کہ باہر نکل کر ذرا بات سنو۔میں باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ویون رچرڈ باہر کھڑے ہیں۔ شرٹ اتاری ہوئی ، بدن سے پسینہ چھوٹ رہا ہے۔ لیکن ہاتھ میں بلا اور ٹانگوں پر پیڈز ابھی بھی باندھ رکھے ہیں۔ میں شدید خوفزدہ ہوکر واپس ڈریسنگ روم میں بھاگا۔اور جا کر عمران خان کو بتایا کہ رچرڈز مجھے مارنے آیاہے۔عمران خان نے بڑی بے پرواہی سے جواب دیا، تو میں کیا کر سکتا ہوں، تمھاری لڑائی ہے، خود جا کر لڑو۔ میں نے اپنے کپتان کے مضبوط جسم اور طاقتور پٹھوں کو دیکھا اور اپنادبلا پتلا جسم دیکھا ۔مجھے عمران خان کے جواب پر بڑی حیرت ہوئی۔ اس کے بعد میں دوبارہ باہر گیا اور جاتے ہی ویوین رچرڈز سے کہا۔ میں معافی چاہتا ہوں ، گرائونڈمیں جو کچھ ہوا ، وہ دوبارہ کبھی نہیں ہوگا۔ اس پر ویون رچرڈز نےجواب دیا، ہونا بھی نہیں چاہیے۔ورنہ میں تمھیں قتل کردوں گا۔ وسیم اکرم کہتے ہیں کہ اس دھمکی کے باوجود میں خوش تھا کہ خوش آمد سے ایک بہت بری پٹائی ہونے سے بچ گئی۔کیونکہ اس زمانےمیں تو میچ ریفری بھی نہیں ہوتا تھا۔




ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !