سپین میں رہنےوالے پاکستانی کس حال میں ہیں،اور پیسہ کمانے جانے والوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے،جانے سے پہلے پڑھیے گا ضرور

0

بارسلونا(مانیٹرنگ ڈیسک)کام ملنے اور پیسہ کمانے کی امید میں سپین جانے والے پاکستانی نوجوان اپنے کفیلوں کے نامناسب رویوں سے پریشان ہیں۔ سپین میں مقیم ایک نوجوان نے پاکستان لائیو نیوز سے رابطہ کرکے بتایا کہ اسے اس کے کفیل نے پیپرز دلوانے کی جھوٹی امید دلوا کر اپنے ساتھ رکھا اور انتہائی کم اجرت پر سارا سارا دن کام لیا۔ لیکن اب وہ نوجوان بے یارو مددگار ہے کیونکہ پیپرز ملنے کے بتائے گئے عرصے کےپورا ہونے پر اس کے کفیل کارویہ بدل گیا۔ اور اس نے کاہلی اور چوری چکاری کے من گھڑت الزامات لگا کراب اس سے نکال دیا ہے۔اس نوجوا ن نےکام کاج کی تلاش میں آنے والوں کوتلقین کی ہے کہ کاغذات بنوا کر دینے والوں کے جھانسے میں آکر یہاں اپنے آپ کو مصیبتوں میں جھونکنے کی بجائے معقول تنخواہ والے مواقع تلاش کریں۔ پاکستانی قونصل خانے کے ذرائع کے مطابق سپین میں ایک لاکھ سے زائد پاکستان مقیم ہیں۔2004تک حالات یہ تھے کہ پاکستانی وزارت  محنت ، افرادی قوت اور سمندر پار پاکستان نے سپین میں مقیم اپنے شہریوں کی تعداد صرف دو ہزار بتائی تھی۔لیکن 2009میں یہ آبادی 26گنا زیادہ یعنی 53ہزار نفوس سے زائد نکلی۔جن میں زیادہ تر کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے اور یہ اوورسیز پاکستانی دارالحکومت بارسلونا کے مرکزی علاقوں میں رہتے ہیں۔پاکستانی شہریوں کی سپین میں آباد کاری کا سلسلہ 70کی دہائی سے ہی شروع ہوگیا تھا تاہم 2006میں پہلی بار سپین میں پاکستانی قونصل خانے کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔سپین میں مقیم پاکستانیوں کی اکثریت زراعت، مکینکس، لکڑی کے کام،ویلڈنگ،اور تعمیراتی کے کام سے منسلک ہے۔پاکستانی کاروباری  طبقہ موبائل شاپس، ڈسکائونٹ شاپس ،گراسری آئٹمز ، کپڑوں کی دوکانیں، قصاب خانے کے کاروبار سے منسلک ہے، لیکن انتہائی کم تعدا د میں لوگ قانون، انجینئرنگ اور میڈیسن کے شعبے سے بھی منسلک ہیں۔بارسلونا میں پہلی حلال گوشت کی دوکان بھی 1983میں ایک پاکستانی ہی نے شروع کی تھی۔





ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !