رحیم یار خان (مانیٹرنگ ڈیسک) کچے کےعلاقے میں ڈاکوؤں کے منظم گینگز کے خلاف جاری پولیس کے آپریشن کے بعد تین ڈاکوؤں کی ہلاکت اور 18 کی گرفتاری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے. ہہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپریشن کو پاک فوج کی بھی حمایت حاصل ہے. لیکن ضلع رحیم یار خان اور ضلعی راجن پور کے منتخب عوامی نمائندے اور وہاں کے کچھ صحافی اس آپریشن اور اس کی کامیابی کے دعووں پر کیاکہتے ہیں. ہہ صورتحال بھی بڑی دلچسپ ہے. ایک سابق ایم. پی اے سردار ریاض مزاری نے ایک. نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں کامیابی کے دعووں پر حیرت ظاہر کی ہے. ان کا کہنا تھا کہ ہم لوگ یہیں کے رہنے والے ہیں. یہاں پر جو پانچ یا چھ بڑے گینگز متحرک ہیں انھیں ان کے تمام ارکان سمیت ہر کوئی جانتا ہے. ان میں سے تو کوئی بھی نہیں پکڑا گیا.بتایا جائے کہ پکڑے گئے لوگ کون ہیں اور ان سے کون سا اسلحہ برآمد کیا گیا ہے. آپریشن کی کامیابی کے دعوے صرف زبانی جمع خرچ پر مبنی ہیں. دوسری جانب پیپلزپارٹی کے سابق ایم پی اے ممتاز چانگ نے میڈیا کو بتایا کہ ڈاکوؤں کو سیاستدان اور پولیس میں شامل سہولت کاروں کی پشت پناہی حاصل ہے. پھر فوج کے آپریشن میں شامل ہونے کی خبریں تو چلتی رہیں لیکن فوج آپریشن کے دوران نظر نہیں آرہی. انھوں نے کہا کہ حالات یہ ہیں کہ ڈاکو لوگوں کو اغواء کر کے ان کی ننگی ویڈیوز ان کے گھر والوں کو بھیجتے ہیں. اور تاوان وصول کرتے ہیں. خود مجھے سینکڑوں سیکیورٹی گارڈز کے حصار میں باہر نکلنا پڑتا ہے، عام آدمی کا کیا حال ہو گا. انھوں نے کہا کہ اگر فوج عملاً آپریشن میں حصہ لے گی تو عین ممکن ہے کہ ڈاکو اس کے خلاف گولی چلانے سے بھی احتراز برتیں گے اور از خود گرفتاری پیش کر دیں گے کیونکہ پولیس پر ڈاکوؤں کو اعتماد نہیں. ڈاکوؤں کو لگتا ہے کہ پولیس جعلی انکاونٹر میں انھیں مار ڈالے گی.. دوسری جانب ایک مقامی صحافی ظفر آہیر نے بتایا کہ ڈاکوؤں کے پاس پولیس کی نسبت کہیں گنا جدید اسلحہ موجود ہے.. جن میں آر آر شامل ہے جو ٹینک تک کو تباہ کر سکتی ہےجبکہ پولیس کے پاس جو روایتی ہتھیار ہیں ان میں سے بھی آدھے سے زیادہ چلنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں. تاہم ڈی پی او راجن پور ناصر سیال کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پولیس بڑی مستعدی کے ساتھ آپریشن کر رہی ہے اور کامیابیاں حاصل کر رہی ہے. یہ تاثر درست نہیں کہ ہمارے پاس جدید ہتھیار موجود نہیں. صرف جغرافیائی اور موسمی حالات آڑے آ جاتے ہیں. ایسے جنگل کے ایریاز بھی ہیں جو دو دو سو کلومیٹر تک پھیلے ہوئے ہیں. جس سے ڈاکوؤں کو چھپنے کے لیے کافی جگہ مل جاتی ہے.اسی طرح بارش کی وجہ سے پورا علاقہ دلدل بن جاتا ہے. جس سے آپریشن میں مشکلات پیش آتی ہیں. پھر یہ کہ یہ علاقہ تین صوبوں پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے دنگم پر واقع ہے. آپریشن کی اطلاع ملتے ہی ڈاکو ان صوبوں میں چھپنے کے لیے پناہ گاہیں ڈھونڈ لیتے ہیں.. لیکن ہم گینگز کو ان کے منطقی انجام تک پہنچا کر علاقے میں قیام امن کو یقینی بنائیں گے.
واضح رہے کہ صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کے کچے کے علاقے میں جنرل ضیاء الحق کے دور سے ڈاکوؤں کے متعدد گینگز سرگرم عمل ہیں جن کے خلاف اب تک کئی آپریشنز کیے جا چکے ہیں. آپریشنز میں درجنوں پولیس افسران اور اہلکار جام شہادت نوش کر چکے ہیں لیکن ان گینگز کو آج تک ختم نہیں کیا جا سکا.

