لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) نوے کی دہائی میں پاکستان کو کرکٹ کے میدان میں بھارت پر برتری حاصل تھی۔ پاکستان نے ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں فارمیٹس میں بھار ت کو واضح فرق سے پیچھے چھوڑ رکھا تھا۔ لیکن پھر دھونی کی کپتانی اوردھونی سے کپتانی ویرات کوہلی کو منتقل ہونے تک نتائج کا گراف بھارت کے حق میں تبدیل ہوتا چلا گیا اور پاکستا ن کو زیادہ تر میچزمیں بھارت سےشکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ویرات کوہلی کی بالخصوص پاکستان کے خلاف کارکردگی ہمیشہ ہی سے شاندار رہی۔ انھوںنے 2012میں پاکستان کے خلاف ایشیا کپ میچ میں 330رنز کے ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں 183رنز کی باری کھیل کر پاکستان کے ارمانوں پر پانی پھیرا، اسی طرح کوہلی نے 2015کے ورلڈ کپ میچ میں پاکستان کے خلاف سنچری بنائی۔ 2016کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ میں پاکستان کے 84رنز کے معمولی ہدف کے تعاقب میں بھی بھارت کی ابتدائی تین وکٹیں جلدی گر گئی تھیں ۔ لیکن ویرات کوہلی نے اس کم سکور والےمیچ میں بھی 50رنز بنا کر بھارت کی جیت میں اہم کردار نبھایا۔اس طرح کوہلی پاکستانی بائولرز کے اعصاب پر پوری طرح سوار تھے۔ چیمپئنر ٹرافی2017کے ابتدائی میچ میں بھی بھارت نے پاکستان کو 124رنز کے بڑے مارجن سے شکست دی تھی اور کوہلی نے اس میچ میںبھی ناٹ آئوٹ 81رنز بنائے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ چیمپنئینز ٹرافی 2017کے فائنل میچ میں پاکستانی ٹیم کو اگر کسی ہندوستانی کھلاڑی کا سب سے بڑا چیلنج درپیش تھا تو وہ ویرات کوہلی تھے۔ کوہلی پاکستانی کھلاڑیوں کے اعصاب پر کس طرح سوار تھے، اس بات کا اندازہ آپ یوںلگائیں کہ فائنل میچ میں بھارت 339رنز کے ہدف کا تعاقب کررہا تھااور روہت شرماکے صفر پر آئوٹ ہونے پر دبائو کا شکار تھا ۔ جب کوہلی بیٹنگ کےلئے آئے تو انھوںنے ایک بال کو ایج کیا اورگیند سلپ میں کھڑے ہوئے اظہر علی کے ہاتھ سے لگ کر نیچے گر گئی۔ یہ دبائو تھا۔ خود اظہر علی کہتے ہیں کہ یہ سچ ہے کہ ہم پر کوہلی کا پریشر بہت زیادہ تھا۔ اتنے بڑے ٹارگٹ کے باوجود ہم یہی بات کررہے تھے کہ کوہلی کی وکٹ کتنا اہم کردار ادا کرے گی۔ یہی وجہ تھی کہ جب کوہلی بیٹنگ کرنے آئے تو مجھ سمیت کئی کھلاڑیوں پر عجیب سا دبائو تھا۔ اور جب گیند زمین پر گری تو جو پہلی بات میرے ذہن میں آئی وہ یہ تھی کہ اگر کوہلی نے ہدف حاصل کر لیا تو لوگ میرے گھر کو آگ لگا دیں گے۔ لیکن شاید اس روز قدرت کو کچھ اور ہی منظورتھا۔ ویرات کوہلی نے اگلا چانس نوجوان شاداب خان کو دے دیا۔ جنھوںنے کوئی غلطی کیے بغیر کیچ تھام لیا۔اور یوں پاکستان کی جیت کی راہ میں حائل سب سے بڑا کانٹا دور ہو گیا۔
ویرات کوہلی پاکستانی کھلاڑیوں کے سر پر خوف کا سایہ بن کر سوار تھے 2017چیمپئینز ٹرافی فائنل کا وہ واقعہ جو آج بھی انسان کو حیرت میں ڈال دیتا ہے
مئی 02, 2023
0

