نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) خلائی تحقیق کے امریکی ادارناسا نے امید ظاہر کی ہے کہ 1972 میں بھجوائے گئے پیغام کا جواب خلائی مخلوق سال 2029 تک دے دے گی جس کے بعد امید ہے کہ زمین سے اربوں میل دور ستاروں پر موجود مخلوقات کا پتہ چلنا شروع ہو جائے گا. ناسا کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ادارے نے 1972 میں ڈیپ سپیس نیٹ ورک (ڈی این ایس ) کے زریعے خلا میں ایک پیغام بھجوایا تھا. یہ پیغام زمین سے 12 ارب میل دوری پر واقع ایک ستارے پر بھجواگیا تھا جس کانام وائیٹ ڈوارف ہے. اس ستارے پر وہ پیغام پہنچ جانے کے سگنلز کی تصدیق 2002 میں ہوئی تھی جس سے یہ پتہ چلا کہ زمین سے اس ستارے تک سگنلز پہنچنے میں 29 سال تک کا عرصہ لگاہے. اور خلائی مخلوق کے بھیجے گئے ممکنہ جواب کے زمین تک پہنچنے میں مزید چھ سال لگیں گے اور ممکنہ طور پر 2029 میں خلائی مخلوق کا جواب آ جائے گا. سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اسی طرح کے سگنلز کئی دوسرے ستاروں کو بھجوائے گیے ہیں جن سے یہ پتہ لگا لیا جائے گا کہ اگر تو باقی ستاروں پربھی کوئی مخلوق بستی ہے تو وہ انسانوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کرے.
اربوں میل دور آباد خلائی مخلوق کو سائنسدانوں کا سگنل مل گیا، خلائی مخلوق کا جواب کب آنے والا ہے، حیران کن انکشاف
مئی 01, 2023
0

