اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے سابق جنرل سیکرٹری اسد عمر کہتے ہیں کہ انھیں 9 مئی کے واقعات سے پہلے پی پارٹی کی سٹریٹجی سے اختلاف تھا. اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں اسد عمر کا کہنا تھا، میں تو 9 مئی کے واقعات سے پہلے ہی اس سٹریٹجی سے اختلاف کر رہا تھا، پھر جو کچھ ہوا وہ تو کسی اور ہی لیول پر تھا. عمران خان جو بھی سٹریٹجی بنا لیں، اس سے اتفاق نہیں کرتا، جنرل سیکرٹری کا کام مفت مشورہ دینے کی بجائے سٹریٹجی پر عمل کرنا ہوتا ہے لیکن میں پہلے ہی اس سب کے حق میں نہیں تھا. انھوں نے کہا کہ الیکشن 2018 میں تحریک انصاف کے ایک کروڑ 68 لاکھ جبکہ پی ڈی ایم جماعتوں کے سوا دو کروڑ ووٹ تھے. اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ قومی مسائل پر بات ہی نہیں کی جا سکتی. موجودہ حالات میں سب کو دو قدم پیچھے ہٹنا ہو گا کیونکہ ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے. دوسری جانب ترجمان پاکستان تحریک انصاف نے اسد عمر کے بیان پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسد عمر پارٹی پالیسی سے اختلاف رکھتے تھے تو مشکل وقت آنے سے پہلے ہی عہدہ چھوڑ دیتے. تب ان کی بات میں وزن ہوتا.
مجھے تو 9 مئی کے واقعات سے پہلے ہی اس پالیسی سے اختلاف تھا، اسد عمر کھل کر بول پڑے
جون 21, 2023
0

.jpeg)