زندہ پیر عورتوں کے جسموں پر ہاتھ پھیرتا اور انھیں گلے لگاتا، پھر اس کی حقیقت کیا نکلی، سبق آموز کہانی

0

 یہ دونوں کہانیاں بہاولنگر کے کسی گاؤں کی ہیں. کہتے ہیں کہ گاوں میں ایک چالیس بیالیس سال کا شخص شخص تھا، اس کا اصلی نام تو معلوم نہیں کیا تھا لیکن سب اسے کنکو پیر کہتے تھے، اسے پیسے دیتے تھے، اس سے دعا مانگنے کا کہتے تھے، بظاہر میلے کچیلے حلیے اور لالچی فطرت کا یہ انسان دھڑلے سے لوگوں سے پیسے مانگتا تھا، اور لوگوں سے بد سلوکی سے بھی پیش آتا تھا لیکن لوگ اسے ولی اللہ اور پیر مان کر اس کا احترام کرتے اور اس کی ناراضگی سے ڈرتے تھے. خواتین کا بھی ہر وقت جھنڈ کنکو پیرکے آس پاس رہتا، کنکو پیر بیماری کا شکار نوجوان عورتوں کو ٹھیک کرنے کے لیے ان کے بدن کو سہلاتا تھا اور شادی شدہ بے اولاد خواتین کے جسم کے مختلف حصوں پر ہاتھ پھیر کر کوئی عمل وغیرہ کرتا تھا. خواتین کے اس 'علاج' کے بعد وہ انھیں گلے لگایا کرتا تھا. اسی گاوں میں ایک بزرگ رہاکرتے تھے. جن کی عمر ستر پچھتر سال تھی. وہ لوگوں کو کنکو پیر سے' فیض یاب' ہوتا دیکھ کر مسکراتےاور چپ چاپ وہاں سے چلے جاتےتھے. اسی گاؤں میں ایک مزار تھا، جس کےدروازے پر تحریر تھا ' مزار بلا شہید' لوگ اس مزار پر جاتے، پیسے دیتے اور چادریں چڑھاتے، دودھ والی کھیر کی دیگیں دیتے اور بوندی والی مٹھائی کی نیاز بانٹتے تھے. پورے گاؤں کے لوگ مزار سے خاص عقیدت رکھتے تھے. لیکن وہ بزرگ جن کا اوپر ذکر ہوا ہے، مزار. کے پاس سے گزرتے تو لوگوں کی مزار سے عقیدت کو دیکھ کر مسکراتے اور نفی میں سر ہلا کر وہاں سے چلے جاتے، گاوں کے بہت سارے لوگ اس بزرگ کو منکر، گستاخ اور نہ جانے کیا کیا کہہ کر پکارتے اور ان سے خاص نفرت رکھتے تھے. لیکن بزرگ نے کبھی بھی اعلانیہ طور پر اس کنکو پیر یا اس بلا شہید مزار کے بارے میں کوئی نفرت یا توہین آمیز بات نہیں کی تھی. فرق  صرف اتنا تھا کہ وہ باقی لوگوں کی طرح نہ تو کنکو پیر سے کوئی بات کرتے اور نہ ہی اس مزار پر کوئی حاضری وغیرہ دیتے. بس صرف ایک خاموش مسکراہٹ تھی جس سے ان کا طنز عیاں تھا. ایک بار زوروں کی بارش ہوئی. گاوں میں سیلاب آگیا، فصلیں تباہ ہو گئیں اور لوگوں کے مال مویشی اور گھروں کا کافی سامان پانی میں بہہ گیا. گاوں کے لوگوں نے اکٹھ کیا اور بہت سے لوگوں نے خیال ظاہر کیا کہ اتنی بڑی تباہی کی وجہ وہ بزرگ تھے، جنھوں نے ایک پیر اور ایک مزار کی شان میں گستاخی کی جس کی وجہ سے پورا گاوں قدرت کے عذاب کا شکار ہوا. چنانچہ فیصلہ ہوا کہ بزرگ کو پکڑ کر پورے گاؤں کے سامنے سزا دی جائے تاکہ اس گناہ کا کفارہ ہو سکے. چند ہی لمحوں میں کچھ جوشیلے نوجوان اس بزرگ کو پکڑ کر اکٹھ کی جگہ لے گئے. کچھ بااثر لوگوں نے بزرگ کو کہا کہ اس کی بے ادبی کی وجہ سے گاؤں میں عذاب آیا. اس لیے اسے سزا دی جائے گی. جس پر بزرگ نے حیرت سے سب لوگ کی طرف دیکھا اور اپنی اس بے ادبی کے بارے میں پوچھا، جب انھیں بتایا گیا کہ کنکو پیر اور مزار کی شان میں گستاخی ان کی بے ادبی تھی تو بزرگ مسکراے اور کہا ' گاوں میں عذاب میری کسی گستاخی نہیں بلکہ تم لوگوں کے شرک کی وجہ سے آیا، تم لوگ کنکو پیر اور بلا شہید کی حقیقت جانے بغیر ان کی اندھی تعظیم میں شرک کی حدیں پار کر چکے ہو' اس پرلوگ حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، انھوں نے بزرگ سے پوچھا 'کیسی حقیقت؟' جس پر بزرگ نے بتایا' میں عمر کے اس حصے میں ہوں کہ بہت سی ایسی باتوں کا پس منظر جانتا ہوں جس کے بارے میں تم لوگوں کی اکثریت کو کچھ بھی معلوم نہیں. کیونکہ تم لوگ اس وقت پیدا ہی نہیں ہوے تھے. جس کنکو پیر کو تم لوگ پیر اور ولی اللہ سمجھ کر اس پر پیسے اور سب کچھ نچھاور کرتے ہو. اس کو کنکو کیوں کہا جاتا ہے، کبھی تم لوگوں نے اس کے بارے میں سوچا؟؟ ' گاوں کے لوگوں نے نفی میں سر ہلایا. بزرگ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا' یہ شخص کسی عورت کے گناہ کی وجہ سے پیدا ہوا تھا، جس کے بعد وہ اسے کنک (گندم ) کھیت میں پھینک کر چلی گئی تھی. چلو اپنی ایسی پیدائش میں اس کا قصور نہیں تھا.. لیکن اس وقت کچھ جاہل لوگوں نے اس کے کھیت سے زندہ سلامت ملنے کو بھی قدرت کا کرشمہ مان لیا اور اسے کوئی ولی اللہ وغیرہ کے طور پر مشہور کر دیا. اسے پیسوں اور بے جا قسم کے چومنے چاٹنے سے بد اخلاق اور لالچی بنا دیا گیا. جوان عورتوں کی قربت ملنے سے یہ بے حیا اور بے شرم بن چکا ہے.. لیکن تم لوگوں کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے' اس پر لوگ بے حد حیران ہوے. انھوں نے پھر پوچھا' مان لیا کہ تمھاری بات سچ ہے لیکن تم تو اس مزار سے بھی بغض رکھتے ہو، اس کے بارے میں کیا کہو گے؟' اس پر بزرگ نے کچھ دیر کےلئے خاموشی اختیار کی اور کسی نادیدہ چیز کو دیکھتے ہوئے زیر لب بڑبڑاتے ہوئے مسکراے' بلا شہید...... تم لوگ اس کے مزار پر ماتھا ٹیکتے ہو اور نہ جانے کیا کیا کرتے ہو. بتاو تم بلے کے بارے میں کیا جانتے ہو؟ ' اس پر سب لوگ خاموش رہے. بزرگ نے کہا ' میں اس وقت بیس بائیس سال کا نوجوان تھا.بلے کے گھر کے افراد سے سارا گاؤں تنگ تھا، یہ پانچ بھائی تھے، ان کا باپ ڈاکوؤں کے ایک گروہ سے تھا، یہ لوگ لڑائی جھگڑا، مار پیٹ،قتل و غارت گری، چھینا جھپٹی، لوگوں کی زمینوں پر قبضے، لڑکیاں اٹھانے اور ان سے زیادتی کرنے اور دوسری بہت سی برائیوں میں پڑے ہوئے تھے.. بلا سب سے چھوٹا تھا، گھرکے غلط ماحول نے اسے بھی بے حد بگاڑ دیا تھا، اس نے اپنے ایک مزارع کے دس گیارہ سال کے بیٹے کے ساتھ بد فعلی کر ڈالی تھی. جس کا اس مزارع کو بہت رنج تھا. اس نے موقع پاکر بلے کو کلہاڑیوں کے وار کرکےاس کے ٹکڑے کر دیے تھے. جس پر بلے کے بھائیوں نے اس مزارع اور اس کی بیوی کو زندہ جلا دیا تھا. اس کے بعد ان لوگوں نے بلے کی قبر کو مزار بنا دیا تھا. اور اس پر کمائی شروع کر دی تھی.. جس کے بعد لوگوں نے  مزار پر حاضری اور نذر نیاز دینا شروع کر دی تھی اور یہ جاہلیت آج تک جاری ہے. اب خود سوچو کہ گاوں میں اتنا بڑا سیلاب کس وجہ سے آیا ہوگا'  یہ سب کچھ سن کر گاوں کے لوگوں کے سر شرم سے جھک گئے.. انھوں نے ندامت سے پوچھا' بابا جی، آپ نے یہ سب کچھ ہمیں پہلے کیوں نہیں بتایا؟ ' جس پر اس بزرگ نے جواب دیا.' جب تک کسی حادثے، سانحے یا واقعہ سے آشنائی نہ ہو جائے، خالی نصیحت ایک بے اثر تقریر کی مانند ہوتی ہے. یہ سب کچھ بتانے کا صحیح وقت اور موقع شاید یہی تھا. تاکہ تم لوگ سمجھ جاو اور عبرت پکڑلو'


دوستو، آج بھی ایسی ہی صورتحال درپیش ہے، سیاست ہو، مذہب ہو یا کوئی اور معاملہ. ہم اکثر سامنے بیٹھے ہوئے بڑی عمر کے لوگوں کو سکھانے کی کوشش کرتے ہیں. ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ لوگ کس قدر جہاندیدہ اور زمانہ شناس ہیں. ہم سے بہت پہلے وہ کیا کچھ جان، دیکھ اور جھیل چکے ہیں، بہت ساری حقیقتیں ان پر آشکار ہیں، بہت سی باتوں کے پس منظر کی جانکاری ، معلومات اور مطالعے میں وہ ہم سے بہت پرانے اور تجربہ کار ہیں. صاف اور سیدھے لفظوں میں کہا جاے تو ہم ان کے بچے ہیں نہ کہ وہ ہمارے بچے ہیں. لیکن پھر بھی ہم اپنی علمی برتری ثابت کرنے کی بھونڈی کوششیں کرتے ہیں. اور زبان درازی کرتے ہیں.. اس فضول اور احمقانہ رویے کی بجائے ان سے کچھ جاننے اور سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیئے، ورنہ آج کی نوجوان نسل کی حالت بھی کنکو پیر 
کے مریدوں اور بلا شہید مزار کے عقیدت مندوں جیسی ہو جائے گی 


ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !