لاہور٫ نئی دہلی٫دوبئی /مانیٹرنگ ڈیسک: بھارت نے چیمپئنز ٹرافی 2025 میں شرکت کیلئے اپنی کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنے سے ایک بار پھر انکار کر دیا ہے ۔ اور چیمپئنز ٹرافی میں اپنی ٹیم کے میچز یو اے ای میں کروانے کا مطالبہ کر دیا ہے
۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بی سی سی آئی نے اس حوالے سے آئی سی سی کو بھی مطلع کر دیا ہے ۔بھارت کا موقف ہے کہ پاکستان میں ٹیم انڈیا کو سکیورٹی خدشات لاحق ہو سکتے
ہیں اس لیے بھارت کےلئے اپنی ٹیم کی سکیورٹی ترجیح ہے۔بھارتی کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے کے بعد اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ آئندہ سال فروری میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی ہائبرڈ ماڈل کے تحت کھیلی جائے گی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر سکیورٹی ہی وجہ ہے تو بھارت اپنی کبڈی، سکواش، سنوکر اور دوسری ٹیموں کو بلا جھجھک پاکستان کیوں بھیجتا رہتا ہے ۔کیا وہی سکیورٹی خدشات ان۔تمام کھیلوں کوکھیلنے والے بھارتی کھلاڑیوں کےلیے نہیں ہیں ؟ اس دلچسپ سوال کا جواب ایک بھارتی سپورٹس جرنلسٹ نے دیا ہے۔ جن کا کہنا تھا کہ درحقیقت کرکٹ ٹیم کو نہ بھیجنے کا فیصلہ بھارتی کرکٹ بورڈ کا نہیں بلکہ حکومت کا ہے ،
اور جہاں تک یہ سوال ہے کہ جب کبڈی ، ،سکواش، ریسلنگ، والی بال اور دوسری کھیلوں کےلیے کھلاڑی پاکستان آ سکتے ہیں جبکہ کرکٹ ٹیم یہاں نہیں آ سکتی یے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارتی ٹیم کی چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کےلیے پاکستان آمد اور ایونٹ کے پاکستان میں انعقاد سے پاکستان بھاری رقم کما سکتا ہے
،اس میں براڈ کاسٹرز کا پیسہ، سپانسرز ، اور ٹکٹوں کی فروخت سے حاصل آمدنی شامل ہیں اور یہی سب کچھ وہ ہے بھارت کبھی بھی نہیں چاہے گا ۔ درپردہ بھارت اسی دولت سے پاکستان کو محروم رکھنا چاہتا ہے اس لیے سکیورٹی ہی وہ آڑ ہے جسے لے کر دورہ پاکستان سے فرار اختیار کر سکتا ہے۔۔
جہاں تک باقی کھیلوں کا تعلق ہے تو کرکٹ کے مقابلے میں ان کھیلوں میں کسی کی دلچسپی اور ان سے آمدنی آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اس لیے بھارت کے نزدیک ان کھلاڑیوں کو پاکستان ںھیجنے میں کوئی بھی 'مسئلہ نہیں ہے ۔

