سڈنی /مانیٹرنگ ڈیسک: دورہ آسٹریلیا پاکستان کرکٹ کےلئے ہمیشہ سے ایک مشکل وقت اور ایک کڑا امتحان ثابت ہوتا ہے کیونکہ ہر بار آسٹریلیا میں باؤنس اور سوئنگ کی وجہ سے جہاں ہماری بیٹنگ ناکام ہو جاتی ہے وہیں پر ہمارے باؤلرز بھی آسٹریلوی باؤلر کی طرح کنڈیشنز کا ٹھیک طرح سے استعمال نہیں کر پاتے۔ اور یہی وجہ ہے کہ خاص طور نوجوان پاکستانی کھلاڑی تو ہمیشہ ہی آسٹریلوی میدانوں پر مشکلات میں گھرے نظر آتے ہیں ۔
اس بار بھی دورہ آسٹریلیا سے قبل اس قسم کی باتیں ہوئیں کہ افتخار کو ہونا چاہیے تھا ، فخر کے بغیر جیتنا ممکن نہیں، نوجوانوں پر انحصار کرنا ٹھیک نہیں، وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن ایک پاکستانی نوجوان کھلاڑی ایسا بھی ہے جس نے دوسرے ون ڈے میچ میں اپنی اننگز سے لگ بھگ سبھی کو حیرت میں ڈال دیا
۔ یہ اوپنر صائم ایوب ہیں جنھوں نے ایڈیلیڈ میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میں صرف 71 گیندوں پر 82 رنز کی اننگز کھیلی جس میں چھ چھکے اور پانچ چوکے شامل تھے۔ یہ اننگز کئی پہلوئوں سے خاص تھی۔ جن پر اگر غور کیا جائے تو واقعی اندازہ ہو گا کہ اس اننگز کو ون ڈے کی چند بہترین اننگز میں شمار کرنا غلط نہیں ہو گا۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ صائم ایوب پاکستان میں بنگلہ دیش اور انگلینڈ کے خلاف ہوم گراؤنڈ اور فلیٹ وکٹوں پر رنز بنانے میں بھی کامیاب نہیں ہو پا رہے تھے۔ بنگلہ دیشی باؤلرز حسن محمود ، تسکین احمد اور رانا پاکستانی وکٹوں پر صائم ایوب کو شدید مشکلات میں ڈال کر آؤٹ کر رہے تھے جس کے بعد یہ تاثر زور پکڑ رہا تھا کہ کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ ایسے نوجوان کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کرکٹ کھلانے سے پہلے ڈومیسٹک کرکٹ کی پریکٹس کروانی چاہیے کیونکہ یہ انٹرنیشنل لیول پر کھلانے لائق نہیں ہیں۔
اب وہی صائم آسٹریلیا جیسی وکٹوں پر مچل سٹارک ، پیٹ کمنز ، جوش ہیزل ووڈ اور ایڈم زمپا جیسے بالروں پر چھکے اور چوکے مار رہے تھے ، شاید اس پرفارمنسز نے پاکستانی شائقین کو تو خوش کیا ہو گا لیکن دوسرے تمام کرکٹ مداحوں کو حیرت میں ڈال دیا ہو گا۔
یہ باری اس پہلو سے بھی خاص تھی کہ صائم طویل عرصے سے بالکل آؤٹ آف فارم تھے ۔اب فارم کی واپسی بھی ہوئی وہ بھی کن باؤلرز کے خلاف جن کی لائن اینڈ لینتھ رفتار ، سوئنگ اور اپنی ہوم کنڈیشنز کا شاندار تجربہ اچھے اچھوں کے پسینے چھڑوا دیتا ہے۔ پیٹ
اور سب سے خاص بات یہ کہ یہ باری اس وکٹ پر کھیلی گئی جس پر آسٹریلیا کی ٹیم صرف 163 رنز بنا کر ڈھیر ہوچکی تھی۔ جس کی وجہ بھی یہی تھی کہ آسٹریلیا کے بیٹرز حارث رؤف اور شاہین شاہ آفریدی کے پیس اور سوئنگ کو ہی کھیلنے میں ناکام رہے تھے۔ جبکہ صائم نے کمنز، سٹارک ، ہیزل ووڈ کی پیس اور سوئنگ کا بڑی بے باکی سے سامنا کیا۔
شاید کچھ لوگ اختلاف کریں لیکن اگر ایک اچھی نظر سے دیکھا جائے تو اس اننگز نے پہلی بار صائم ایوب کے اندر چھپے ایک بڑے، دلیر ، پر اعتماد اور ٹیلنٹڈ بلے باز کا اشارہ دے دیا ہے۔ اس لیے انھیں زیادہ سے زیادہ موقع ، وقت اور تجربہ ملنا چاہیے تاکہ پاکستان ان کے ٹیلنٹ کا پورا فائدہ اٹھا سکے

.jpg)