واشنگٹن/ مانیٹرنگ ڈیسک ۔ڈونلڈ ٹرمپ دوسری مرتبہ امریکی صدر منتخب ہو گئے ہیں ۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کی کملا ہیرس کو واضح برتری سے شکست دے دی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی۔کی خبر پاکستان سمیت دنیا بھر کے میڈیا کی شہ سرخی بن چکی ہے اور تمام ممالک ٹرمپ کی جیت کو امریکہ سے تعلقات اور نئی عالمی صورتحال کے پیرائے میں دیکھ رہے ہیں ۔۔پاکستان میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی الیکشن میں کامیابی ایک پہلو سے خاصی اہمیت اختیار کر گئی ہے جس کے تحت یہ۔مانا جا رہا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف ٹرمپ کی جیت پر بہت خوش ہے اور وہ اس بات کی امید لگائے بیٹھی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدر بننے کے بعد بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جیل سے رہائی کےلیے پاکستان پر امریکی دباؤ بڑھا سکتے ہیں ۔ اگرچہ بانی چیئرمین کی ہمشیرہ علمیہ خان اور کچھ دیگر رہنماؤں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے معاملے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے اور عمران خان کی رہائی کےلیے ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت پر انحصار کو خارج از امکان قرار دے دیا ہے۔لیکن حکومت کی چند انتہائی اہم شخصیات کے بیانات سے یہ واضح لگ رہا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت سے نہ صرف ناخوش ہیں بلکہ دل ہی دل میں انھیں یہ ڈر ہے کہ جلدہی ٹرمپ کی قیادت میں واشنگٹن اس مدعے کو اسلام آبادکے سامنے اٹھا سکتا ہے۔۔ایک ایسے موقع پر جب تمام ممالک۔کے سربراہان ڈونلڈ ٹرمپ کو کامیابی کی مبارکباد پیش کر رہے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور مشیر برائے داخلہ رانا ثناء اللہ نے اپنے بیانات سے خود ہی ٹرمپ کی جانب سے عمران خان کی۔رہائی کی۔ممکنہ حمایت کا اندیشہ ظاہر کر دیا ہے۔ اپنے بیان میں مریم نواز نے طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکست کے بعد ٹرمپ نے بھی اپنے ہی ملک پر حملہ کر دیا تھا۔ جںکہ رانا ثنا اللہ کہتے ہیں کہ اگر ٹرمپ نے عمران خان کی رہائی کیلئے کوششیں کیں تو اس سے تحریک انصاف کی سیاست ختم ہو جائے گی کیونکہ اس سے مغربی لابی کی پی ٹی آئی کو مسلط کرنے کی۔کوششیں بے نقاب ہو جائیں گی۔ لیکن ان سب باتوں سے ہٹ کر چند پہلو بڑے اہم ہیں جن کو دیکھتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی۔جانب سے عمران خان کو جیل سے رہا کرنے کے لیے پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے امکان کو رد۔نہیں کیا جا سکتا۔ ایک تو یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کے مابین اچھے دوستانہ تعلقات ہیں اور ایک جیسا دو ٹوک مزاج ہونے کی۔بنیاد پر دونوں میں خاصی انڈر سٹینڈنگ ہے۔ دوسرا یہ حالیہ مہینوں میں امریکی کانگریس اور سینیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن سے تعلق رکھنے والے ارکان کانگریس اور سینیٹ نے عمران خان کو رہا کرنے کی۔حمایت میں قرار دادیں منظور کی ہیں یہاں تک کہ امریکہ اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک میں اٹھا چکا ہے۔ لیکن ان سب۔باتوں سے بھی بڑھ کر جو پہلو سب سے اہم اور نمایاں ہے جو چند ہفتے قبل کا ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بیان۔ہے۔۔امریکہ میں پی ٹی آئی کے ایک اہم رہنما نے بتایا ہے۔کہ صدارتی الیکشن کی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ صدر بننے کے بعد وہ اپنے دوست عمران خان کو جیل سے رہا کروائیں گے۔ اس بارے میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق سفیر اور بین الاقوامی امور کی ماہر ملیحہ لودھی نے ایک ٹی وی چینل سےبات کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان سے انخلاء کے بعد پاک۔امریکہ۔تعلقات میں طویل عرصے سے خلا پیدا ہو چکی ہے۔ امریکہ پاکستان اور چین کی سٹریٹجک شراکت داری کو بھی پسند نہیں کرتا اس لیے وہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور اس مقصد کےلئے عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کا کردار انتہائی اہم ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس وقت پی ٹی آئی ہی ملک میں وہ واحد جماعت ہے جو نہ صرف ایک سخت گیر اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے بلکہ موجودہ اسٹیبلشمینٹ کے خلاف بھی سخت بیانیہ اپنائے ہوئے ہے۔۔اور۔یہی وہ ہتھیار ہے جو امریکہ پاکستان کے اندر موثر طور پر استعمال کر سکتا ہے۔
ٹرمپ کے امریکی صدر بنتے ہی تحریک انصاف کے لیے بہت بڑی خبر آگئی
نومبر 07, 2024
0

