پشاور/ مانیٹرنگ ڈیسک: پاراچنار میں طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔لجیو نیوز کے مطابق پاراچنار میں ڈھائی ماہ سے جاری راستوں کی بندش کے خلاف عوامی دھرنا چھٹے روز میں داخل ہو گیا ہے۔تحصیل چیئرمین اپر کرم آغا مزمل نے بتایا کہ راستوں کی بندش کی وجہ سے مقامی لوگ بنیادی خوراک اور طبی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں 100 سے زائد بچے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔
دوسری طرف ڈپٹی کمشنر کرم نے بتایا کہ علاقے میں امن کے قیام کے لیے آج گرینڈ جرگہ مذاکرات کا آغاز کر رہا ہے، اور اس مقصد کے لیے گرینڈ امن جرگہ ضلع کرم پہنچ چکا ہے۔پاراچنار کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے مجلس وحدت مسلمین نے کراچی کی نمائش چورنگی اور لاہور پریس کلب پر احتجاجی دھرنے کا انعقاد کیا۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا، بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ پاراچنار روڈ کی بحالی کے لیے خصوصی پولیس فورس کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی اقدامات کا مقصد علاقے میں دہائیوں پرانے تنازع کا مستقل اور پائیدار حل تلاش کرنا ہے۔واضح رہے کہ پاراچنار میں گزشتہ ڈھائی ماہ سے قبائلی جھڑپوں کے باعث کشیدگی برقرار ہے، جس کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور تمام اہم راستے بند ہیں۔

