دوبئی/ مانیٹرنگ ڈیسک: گزشتہ دنوں پاکستان نے بھارت کو انڈر 19 ایشیا کپ کے میچ میں 43 رنز سے شکست دی تھی۔ پاکستان کی۔جانب سے نوجوان لیفٹ ہینڈڈ بلے باز شاہ زیب خان نے دس چھکوں اور پانچ چوکوں کی مدد سے 159 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ عثمان خان نے بھی 60 رنز بنائے ۔ جواب میں بھارتی ٹیم 238 رنز بنا کر آل آؤٹ ہو گئی ۔ لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستانی انڈر 19 ٹیم بھارتی ٹیم کو چوتھا سال تسلسل کے ساتھ شکست دے رہی ہے۔ اس سے قبل پاکستان نے بھارت کو گزشتہ سال کھیلے گئے میچ میں 8 وکٹوں جبکہ 2021 میں کھیلے گئے میچ میں دو وکٹوں سے ہرایا تھا ۔
۔یعنی گزشتہ تین میچوں میں سے تمام میں پاکستان نے بھارت کے خلاف کامیابی حاصل کی۔یہ تین کامیابیاں اس اعتبار سے غیر معمولی ہیں کیونکہ ان سے پچھلے لگاتار پانچ میچوں میں جیت بھارت کے نام رہی تھی۔ کئی مبصرین اس بات کو پاکستان کرکٹ کے مستقبل کے لیے ایک نیک شگون قرار دے رہے ہیں ۔ یہ رائے اس تناظر میں اتنی غلط بھی قرار نہیں دی جا سکتی۔ کیونکہ اگر دونوں ملکوں کی انڈر 19 ٹیموں کے آپسی مقابلوں کے مجموعی ریکارڈ کو دیکھا جائے تو پاکستان کی دس کامیابیوں کے مقابلے میں بھارت کو پندرہ فتوحات کے ساتھ برتری حاصل ہے۔ اور پچھلی دو دہائیوں میں بھارتی ٹیم کے شاندار ریکارڈ کی بنیاد ان کی انڈر 19 ٹیم کو ہی مانا جا سکتا ہے۔ جس نے ویرات کوہلی، روہت شرما، رویندر جدیجا ، جسپریت بمرا ، شبھمن گل ،، جیسوال ، اور ایسے کئی کھلاڑی پیدا کرکے بھارتی کرکٹ ٹیم کو بام عروج تک پہنچایا۔ ٹھیک ویسے ہی موجودہ پاکستانی انڈر 19 ٹیم میں شاہ زیب خان، عثمان خان ، عبد السبحان ، علی رضا اور چند اور کھلاڑی مستقبل قریب میں دنیائے کرکٹ میں کئی بڑے کارنامے سرانجام دینے کے عزائم ظاہر کر چکے ہیں ۔ اس سے ہر گز یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ مستقبل میں بھارتی ٹیم حال جیسی طاقت کو برقرار نہیں رکھ سکے گی ۔۔بھارت میں نوجوان کرکٹرز کی سلیکشن کا معیار اور ڈومیسٹک کرکٹ کا انتہائی مضبوط ڈھانچہ موجود ہے۔۔ تاہم یہ بھی مان لینا چاہیے کہ پاکستان نے بھی بھارتی ماڈل کو کسی حد تک اپنا کر اچھے کرکٹرز سامنے لانے کی کوششیں خاصی تیز کر دی ہیں جس کے مستقبل میں اچھے نتائج آنے کی امید ہے ۔

