اسلام آباد (پاکستان لائیو نیوز) وزارت خزانہ نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران موبائل فون صارفین سے 3 کھرب 38 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔
ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں موبائل صارفین سے ٹیکس وصولی کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ وزارت خزانہ کی جانب سے ایوان کو بتایا گیا کہ 2020 میں صارفین سے 50 ارب روپے، 2021 میں 55 ارب روپے، 2022 میں 61 ارب روپے، 2023 میں 80 ارب روپے، اور مالی سال 2024 میں 92 ارب روپے ایڈوانس ٹیکس کے طور پر وصول کیے گئے۔
وزارت خزانہ نے امید ظاہر کی ہے کہ مالی سال 2025 میں پاکستان کی برآمدات 33 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جبکہ ترسیلات زر کا تخمینہ 33 ارب 50 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق آئی ٹی سیکٹر میں بھی ساڑھے 8 ارب ڈالر کی ترقی متوقع ہے اور رواں مالی سال کے دوران آئی ٹی برآمدات 4 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
اجلاس میں سی پیک منصوبوں کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے سی پیک کے تحت چین سے ساڑھے 25 ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل کی۔ ان فنڈز کی مدد سے 24 ارب ڈالر کی لاگت سے 43 منصوبے مکمل کیے گئے، جبکہ مزید 75 کروڑ 95 لاکھ ڈالر کے 8 منصوبے زیر تعمیر ہیں۔
یہ اعداد و شمار ملکی ترقی اور معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے منصوبوں اور سیکٹرز کی نمایاں کارکردگی کو ظاہر کرتے ہیں۔

