پاکستان کے معروف مزاح نگار اور مصنف انور مقصود نے اپنی اغوا کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے وضاحت پیش کی۔
کراچی میں منعقدہ 17ویں اردو کانفرنس کے آخری روز خطاب کے دوران انور مقصود نے ان افواہوں کے بارے میں بات کی جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ انہیں اغوا کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 60 سال سے لکھنے اور پڑھنے کے شعبے سے وابستہ ہیں لیکن کبھی شہیدوں کا مذاق نہیں اڑایا۔ اگر ان کی کسی بات سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو وہ معذرت خواہ ہیں۔
انور مقصود نے مزید بتایا کہ گزشتہ دو روز سے ان کے گھر پر پاکستان اور بیرونِ ملک سے فون کالز موصول ہو رہی ہیں، اور سوشل میڈیا پر افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ انہیں اغوا کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ آج یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ زندہ لوگوں کے بارے میں بات کرتے آئے ہیں، لیکن آئندہ وہ ان پر بھی کوئی بات نہیں کریں گے۔
اپنے خطاب میں انور مقصود نے کہا کہ ان کے قریبی دوست اور رشتے دار نیوی میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں، اور وہ پاکستان کے تمام اداروں بشمول نیوی اور مسلح افواج کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ ان کا طنز ہمیشہ اصلاح کی نیت سے ہوتا ہے، نہ کہ کسی کی بے عزتی کے لیے۔

