واضح رہے کہ بشریٰ بی بی نے گزشتہ روز چار سدہ میں 26 نومبر کو احتجاج کے دوران جاں بحق ہونے والے کارکن تاج محمد کے اہل خانہ سے تعزیت کے موقع پر کہا تھا کہ وہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر ڈی چوک پہنچی تھیں ۔ اور ان کی ہدایت کے باوجود انھیں وہاں اکیلا چھوڑ دیا گیا اور وہ رات ساڑھے 12 بجے تک اکیلی ڈی چوک پر ہی تھیں ۔۔تاہم علی امین گنڈا پور کے اس بیان کے بعد کہ وہ انھیں مانسہرہ اپنے ساتھ لے کر گئے تھے، یہ واضح نہیں ہو پا رہا کہ پھر بشریٰ بی بی یہ کیوں کہہ رہی ہیں کہ انھیں ڈی چوک اکیلا چھوڑ دیا گیا۔
بشریٰ بی بی کے ڈی چوک پر اکیلا چھوڑ دینے کے الزام کے بعد علی امین گنڈا پور کا موقف بھی سامنے آ گیا
دسمبر 07, 2024
0
پشاور/ مانیٹرنگ ڈیسک: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا بشریٰ بی بی کے اس بیان کے ڈی چوک پر انھیں اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا ،پر رد عمل آ گیا ہے۔ علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ میں اور بشریٰ بی بی اسلام آباد سے ایک ساتھ ہی روانہ ہو گئے تھے ، اگر وہ کسی اور کے بارے میں یہ کہہ رہی ہیں کہ وہ انھیں وہاں اکیلا چھوڑ گئے یا جھوٹ بول رہے ہیں تو یہ انھی سے پوچھا جائے ۔ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ 26 نومبر کو جب سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ کی گئی تو میں بشریٰ بی بی کو اپنی سکیورٹی کے ہمراہ ہی لے کر کے پی کے روانہ ہوا تھا ۔

