فیصل آباد: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ 50 فیصد سینیٹرز پیسے دے کر منتخب ہوئے ہیں۔فیصل آباد ڈسٹرکٹ بار میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی، اور جب تک رول آف لاء قائم نہیں ہوگا، معیشت ترقی نہیں کر سکتی۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مشرقی پاکستان کے مینڈیٹ کا احترام نہ کرنے کی وجہ سے آدھا ملک کھو دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں الیکشن سے پہلے ہی اندازہ تھا کہ انتخابات چوری ہوں گے، اسی لیے انہوں نے حصہ نہیں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی جماعت کو آگاہ کر دیا تھا کہ وہ "ووٹ کو عزت دو" کے موقف پر قائم ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جس ملک میں انتخابات چوری ہوں اور عوام کی رائے کا احترام نہ ہو، وہ ترقی نہیں کرتا۔ ملک کی خرابیوں کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔ یہاں رات کے اندھیرے میں آئینی ترامیم کی جاتی ہیں اور عوام کی مرضی کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔سابق وزیراعظم نے 26ویں آئینی ترمیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد ججز کی تعیناتی انتظامیہ کے زیر اثر ہو گئی ہے، اور جب تک یہ ترمیم برقرار رہے گی، عدالتی نظام میں اصلاحات ممکن نہیں۔ انہوں نے بار ایسوسی ایشنز کو اس معاملے پر آواز بلند کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ججز، بیوروکریسی اور دیگر افراد سے سوال ہونا چاہیے کہ وہ ٹیکس ادا کرتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے حکومت اور اپوزیشن کی باہمی تنقید کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایک دوسرے کو گالیاں دینے سے مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ ملک مزید انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔

