جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے چند دنوں کے دوران دوسرے صدر کے خلاف مواخذے کی قرارداد منظور کر لی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جنوبی کوریا کے قائم مقام صدر ہان ڈک سو کے خلاف پیش کی گئی قرارداد پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت سے منظور کی گئی۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب قائم مقام صدر ہان ڈک سو نے اپنی ہی جماعت سے تعلق رکھنے والے سابق صدر یون سک یول کے خلاف کارروائی کے لیے آئینی ججوں کی تقرری سے انکار کر دیا تھا۔ اس فیصلے پر اپوزیشن نے سخت ردعمل دیتے ہوئے صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کا اعلان کیا تھا۔اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ سابق صدر یون کے مارشل لا کے نفاذ اور خاتون اول کے مبینہ رشوت کے معاملات کی تحقیقات کے لیے دو آزاد تحقیقاتی ادارے تشکیل دیے جائیں۔
ہان ڈک سو، جو جنوبی کوریا کے وزیراعظم بھی ہیں، ملک کی تاریخ میں پہلے قائم مقام صدر ہیں جن کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اپوزیشن نے سابق صدر یون سک یول کے مارشل لا نافذ کرنے کے فیصلے پر دو بار مواخذے کی تحریکیں پیش کی تھیں۔ پہلی تحریک ناکام رہی تھی، لیکن دوسری بار اپوزیشن تحریک عدم اعتماد کامیاب کروانے میں کامیاب ہو گئی، جس کے نتیجے میں سابق صدر کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔

