واشنگٹن: امریکی نائب مشیر برائے قومی سلامتی نے کہا ہے کہ پاکستان ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف، بشمول امریکا، کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق، ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جان فائنر نے کہا کہ پاکستان جوہری ہتھیاروں سے لیس طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے، جو اسے جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف تک پہنچنے کی صلاحیت فراہم کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق، اس طرح کے اقدامات پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے مقاصد کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
جان فائنر نے مزید کہا کہ اگر پاکستان کے اقدامات کو کھل کر دیکھا جائے تو یہ امریکا کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ ظاہر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بیلسٹک میزائل سسٹمز سے لے کر بڑی راکٹ موٹرز کے تجربات تک ایسی ٹیکنالوجیز تیار کی ہیں، جو اس کی اہلیت کو مزید بڑھا سکتی ہیں، اور اگر یہ پیش رفت جاری رہی تو پاکستان جنوبی ایشیا سے کہیں آگے امریکا تک اہداف کو نشانہ بنانے کے قابل ہو جائے گا۔اس دوران امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکا عالمی سطح پر عدم پھیلاؤ کے نظام کی حفاظت کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان امریکا کا ایک اہم شراکت دار ہے اور اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کا طویل عرصے سے یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان کے لانگ رینج بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت نہیں کی جانی چاہیے۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا نے پاکستان کے چار اداروں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو آگے بڑھانے میں مدد دی۔ ان اداروں میں اسلام آباد کا نیشنل ڈیولپمنٹ کمپلیکس اور کراچی میں واقع تین دیگر ادارے، اختر اینڈ سنز، ایفیلی ایٹس انٹرنیشنل، اور روک سائیڈ انٹرپرائزز شامل ہیں۔پاکستانی وزارت خارجہ نے ان پابندیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کا یہ فیصلہ غیرجانبدارانہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کا مقصد جنوبی ایشیا میں امن و استحکام برقرار رکھنا ہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے اس فیصلے کو متعصبانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی پالیسیاں خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ان کا مقصد فوجی عدم توازن پیدا کرنا ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان کا اسٹریٹجک پروگرام ایک مقدس امانت ہے اور اس کا مقصد خطے میں امن قائم رکھنا ہے۔

