ایڈیلیڈ ، ممبئی/ مانیٹرنگ ڈیسک: ایڈیلیڈ میں آسٹریلیا کے ہاتھوں بھارت کی شکست کے بعد بھارتی شائقین کرکٹ کا غم و غصہ انتہا کو پہنچ گیا ہے۔اس شکست کے بعد بھارت کے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں پہنچنے کے امکانات مزید خدشات کا شکار ہو گئے ہیں ۔ اگرچہ بھارت جسپریت بمرا کی کپتانی میں پرتھ میں کھیلے گئے گزشتہ ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا کو ہرانے میں کامیاب ہوا تھا ۔ لیکن 38 سالہ روہت شرما کی گھریلو مصروفیات کے بعد ٹیم میں واپسی ہوتے ہی نیوزی لینڈ سے ہوم سیریز میں وائٹ واش ہونے کے بعد ان کی کپتانی میں بھارت کو مسلسل چوتھی عبرتناک شکست کا مزہ چکھنا پڑاہے ۔
روہت شرما اپنے بلے کے ساتھ بھی بری طرح ناکام ہوئے۔ انھوں نے پہلی اننگز میں تین اور دوسری اننگز میں چھ رنز بنائے ۔اسی طرح اگرچہ گزشتہ میچ میں ویرات کوہلی نے سنچری سکور کی تھی تاہم اس بار دونوں اننگز میں انھوں نے بالترتیب سات اور گیارہ رنز بنائے ۔۔ 36 سالہ ویرات کوہلی کی کارکردگی ، ان کا اعتماد اور ان کی موجودگی سے مخالف ٹیم پر دباؤ کی ماضی میں جو صورتحال تھی ویسا اب کچھ بھی نہیں ہے۔ جہاں ٹیم۔انڈیا میں ان کا ہونا ان کی ٹیم اور بھارتی مداحوں کےلیے سب سے بڑا حوصلہ ہوا کرتا تھا اب ان کے چاہنے والوں کو صرف ایک ہی بات کا دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کیا وہ اپنی عزت اور بھروسہ بچا پائیں گے یا نہیں۔ اور شاید ویرات کوہلی خود بھی اسی سوچ کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اور حد سے زیادہ محتاط نظر آتے ہیں پھر جلدی آؤٹ ہو جاتے ہیں یا شاید اسی وجہ سے جلدی آؤٹ ہو جاتے ہیں۔اور ان دو ماسٹر کلاس کھلاڑیوں کو اب ٹیم پر بوجھ سمجھا جا رہا ہے۔ گوکہ اس میچ میں جیسوال ایل راہول ، شبھمن گل اور رشبھ پنت بھی بیٹنگ میں ناکام ہوئے ہیں لیکن اس دورے میں جو توقعات روہت شرما اور ویرات کوہلی سے وابستہ تھیں کسی اور کھلاڑی سے وہ امیدیں نہیں کی جا رہی تھیں ۔ اور اب اس شکست کے بعد اگر یہ کھیلتا تو وہ نہ ہوتا ، اگر وہ نہ کھیلتا تو وہ ہوتا جیسی چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر بھارتی شائقین کرکٹ ایک بھرپور مہم چلا کر ان دونوں کھلاڑیوں کی ریٹائرمنٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی جگہ اب نوجوان کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے کا اصرار کر رہے ہیں ۔

