سندھ کے سرکاری افسر نے چینی کمپنی سے رشوت میں برج خلیفہ کا اپارٹمنٹ مانگ لیا

0

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک): پاکستان میں کام کرنے والی ایک چینی کمپنی نے قومی احتساب بیورو (نیب) میں شکایت درج کرائی ہے، جس میں سندھ حکومت کے ایک افسر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ٹینڈر دینے کے بدلے دبئی کے برج خلیفہ میں لگژری اپارٹمنٹ کا مطالبہ کیا۔



میڈیا رپورٹس کے مطابق، چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن اور ہوبئی شوئیزونگ واٹر ریسورسز اینڈ ہائیڈرو پاور کنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ (CRBC-HBSZ) کی جانب سے نیب میں جمع کرائی گئی شکایت میں کہا گیا ہے کہ سندھ بیراجز امپروومنٹ پروجیکٹ (SBIP) کے ڈائریکٹر غلام محی الدین مغل نے سکھر بیراج کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے منصوبے کا ٹھیکہ دینے کے عوض برج خلیفہ میں 3600 مربع فٹ کا اپارٹمنٹ طلب کیا۔


رپورٹ کے مطابق، چینی کمپنی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس مطالبے کے ساتھ متعلقہ افسر نے برج خلیفہ کی تصویر بھی فراہم کی۔ نیب کراچی کو جمع کرائے گئے خط میں کمپنی نے اس معاملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کارروائی نہ کی گئی تو کمپنی منصوبے پر کام روکنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔


یہ منصوبہ ورلڈ بینک کی مدد سے 34 ارب ڈالر کی لاگت سے شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد 90 سال پرانے سکھر بیراج کو آئندہ 30 سال تک فعال رکھنے کے لیے اس کی مرمت اور اپ گریڈیشن شامل ہے۔ سکھر بیراج انڈس بیسن آبپاشی نظام کا ایک اہم حصہ ہے، جو سات نہروں کو پانی فراہم کرتا ہے، یہ نہریں 3.2 ملین ہیکٹر زرعی زمین کو سیراب کرتی ہیں اور سالانہ 2.29 بلین ڈالر کی زرعی پیداوار میں مدد دیتی ہیں۔ منصوبے کے تحت ساختی مرمت، میکانی بہتری اور نگرانی کے جدید نظام کا قیام شامل ہے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !