وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور، رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کو سکیورٹی یا صحت کے معاملات کی بنا پر کسی اور جگہ منتقل کیے جانے کا امکان ہو سکتا ہے۔ایک انٹرویو میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما نے بتایا کہ عمران خان کے لیے جیل کے اندر ٹرائل کرنے کا فیصلہ بھی ان کی سکیورٹی کے پیش نظر کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی اور صحت کے مسائل کے باعث خصوصی انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ، علی امین گنڈاپور نے رانا ثنا اللہ کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی کی عمران خان سے ملاقات اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی بیرون ملک موجودگی کے باعث ممکن نہیں ہو سکی۔ تاہم، اب ان کی واپسی کے بعد عمران خان اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان ملاقات ہوگی۔ اس دوران عمران خان سے انفرادی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔
پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے حکومت اور تحریک انصاف کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بیانات سے مذاکرات کا ماحول متاثر نہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی تو مذاکراتی ٹیم کو مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

