لاہور / مانیٹرنگ ڈیسک: پاکستان نے باؤلنگ ڈیپارٹمنٹ میں اصلاحات کے ذریعے اپنے ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ کرکٹ میں اچھے نتائج دینا شروع کر دیے ہیں ۔ انگلینڈ کے خلاف سیریز کا پہلے میچ میں اننگز کی بد ترین شکست کے بعد پاکستان نے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کیا اور سپن وکٹیں تیار کرتے ہوئے اپنے دو بہترین سپن ہتھیاروں ساجد خان اور نعمان علی کو ٹیم میں شامل کیا اور باقی ماندہ دونوں ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ کو شکست دے سیریز دو ایک سے جیت لی۔۔جس کے بعد پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو پہلے ٹیسٹ میچ میں اسی سپن اٹیک کے ذریعے شکست دی۔
ہوم گراؤنڈز پر ٹیسٹ کرکٹ کی حالیہ کارکردگی کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ پاکستان نے گزشتہ تین ٹیسٹ میچوں میں مخالف ٹیموں کو دونوں اننگز میں آؤٹ کرکے مجموعی طور پر جو 60 وکٹیں حاصل کیں ان میں سے 59 وکٹیں سپنرز کے حصے میں آئیں اور صرف ایک وکٹ فاسٹ باؤلر کے حصے میں آئی۔ یہ اعدادوشمار اگرچہ سپنرز کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے تو قابل ستائش ہیں لیکن اس پہلو سے خاصے کارکن ہیں کہ پاکستانی فاسٹ باؤلرز گزشتہ تین ٹیسٹ میچوں میں صرف ایک وکٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔۔اگرچہ یہ بات کوئی ایسی حیران کن بھی نہیں کیونکہ بھارت نے نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں تین صفر سے شکست سے قبل مسلسل 10 سال تک اپنے ہوم گراؤنڈز پر کوئی بھی ٹیسٹ سیریز نہیں ہاری تھی۔جس کی اہم وجہ سپن وکٹیں تیار کرکے سپنرز کے ذریعے مخالف ٹیم کے بلے بازوں کو پریشان کرنا تھا۔۔بھارت کی دس سالہ کامیابیوں میں سپنرز روی چندن ایشون، رویندر جڈیجا اور کچھ اور سپنرز کا کردار نمایاں رہا۔ اسی طرح سری لنکا کو اس کے ہوم گراؤنڈز پر ٹیسٹ میچ میں شکست دینا اس لیے بے حد مشکل رہا ہے کیونکہ سری لنکا نے سپن وکٹیں تیار کرکے اپنی بہترین سپن باؤلنگ لائن اپ کو بروئے کار لایا ۔حتی کہ بنگلہ دیش نے بھی گزشتہ دس سالوں میں اپنے ہوم گراؤنڈز کو سپن باؤلنگ کے لیے سازگار بنا کر فائدہ اٹھایا لیکن بھارت (سوائے بمرا کے)، سری لنکا یا بنگلہ دیش میں سے کسی کے پاس فاسٹ باؤلر کا ایسا پیک موجود نہیں تھا جتنا کہ پاکستان کے پاس تھا اور جس کی تشہیر بھی خوب کی گئی۔ لیکن اس کے باوجود پاکستانی فاسٹ باؤلرز کی اپنے ہوم گراؤنڈ پر کارکردگی انتہائی ناقص رہی۔ اور پڑوسی ملک کا سوشل میڈیا اس بات پر خاصا ٹرولنگ کر رہا ہے۔۔لیکن بہرحال یہ بھی ایک بزدلانہ سوچ کا نتیجہ ہے کہ ہم نے ماضی میں روڈ ٹریکس اور بیٹنگ وکٹیں تیار کرکے میچ ڈرا کرنے کی حکمت عملی پر کام کیے رکھا ۔ لیکن اس مشق میں پاکستانی اور غیر ملکی فاسٹ باؤلرز کا بھرکس نکل گیا۔

