لندن / مانیٹرنگ ڈیسک: پاکستان کی میزبانی میں 40 دن سے بھی کم عرصے کے بعد شروع ہونے والی چیمپئنز ٹرافی کے میچ میں انگلینڈ سمیت تین کرکٹ بورڈز کی جانب سے مخصوص میچز کے بائیکاٹ کی خبروں کی گونج سنائی دینے لگ گئی ہے۔ انگلینڈ نے افغان حکومت کی جانب سے خواتین پر کھیلوں کی پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کے بعد اپنے کرکٹ بورڈ پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے کہ وہ افغانستان کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے۔ انگلینڈ کے 160 سیاستدانوں نے اس ضمن میں موقف اختیار کیا ہے کہ خواتین سے امتیازی سلوک بنیادی انسانی حقوق اور شخصی آزادی کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اب جنوبی افریقہ نے بھی انگلینڈ کے موقف کی حمایت کردی ہے۔جنوبی افریقہ کے وزیر کھیل گیٹن میکنزی نے آئی سی سی پر دوہرا معیار اپنانے اور اپنے ہی قوانین کی پاسداری نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنا ڈالا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اخلاقی طور پر میچ کے بائیکاٹ کرنے کے پابند ہیں اور یہ کہ اگر ان کا اختیار ہو وہ اپنی ٹیم کو افغانستان کے خلاف میچ کھیلنے سے روکیں گے۔ انھوں نے کہا کہ کرکٹ سری لنکا کی رکنیت دو ماہ تک حکومتی مداخلت کی بنیاد پر معطل کر دی گئی تھی ۔ لیکن افغانستان میں سیاسی حکومت کی ایسی مداخلت کو برداشت کیا جانا دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے اور اس عزم کی نفی کرتا ہے کہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی کرکٹ کو بھی فروغ دیا جانا چاہیے ۔ دوسری جانب کرکٹ آسٹریلیا نے تو دو میچ نہ کھیلنے کا بھی عندیہ دے دیا ہے تاہم تینوں کرکٹ بورڈز نے تاحال حتمی طور پر کوئی اعلان نہیں کیا ۔

