امریکی شہر لاس اینجلس آگ سے جھلس کر راکھ،کئی ہلاکتیں

0

لاس اینجلس / مانیٹرنگ ڈیسک: امریکی شہر لاس اینجلس کے جنگلات میں لگنے والی آگ نے رہائشی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے پیسیفک پیلیسیڈ کا علاقہ ایٹمی حملے کے بعد کے مناظر پیش کرنے لگا ہے۔لاس اینجلس کاؤنٹی کے شیرف رابرٹ لونا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی حالت دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہاں ایٹم بم گرایا گیا ہو۔ اس آگ کو اب امریکی تاریخ کی سب سے مہنگی آفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے باعث ابتدائی نقصان کا تخمینہ 150 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ آگ کی تباہ کاریوں میں 6 ہزار سے زائد گھر اور عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں، جبکہ 4 سے 5 ہزار مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔ انشورنس انڈسٹری کو بھی تقریباً 8 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔



امریکی میڈیا کے مطابق منگل کے روز شروع ہونے والی اس آگ نے اب تک 36 ہزار ایکڑ سے زیادہ رقبے کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ حادثے کے نتیجے میں اب تک 10 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ درجنوں زخمی ہیں اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آگ سے متاثرہ علاقے کی تصاویر اس کی شدت اور نقصانات کی عکاسی کر رہی ہیں۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !