سکھر (آئی این پی) – سکھر میں 100 روپے فی لیٹر دودھ فروخت کرنے والے دکاندار کو دھمکیاں ملنے لگیں۔ دکاندار کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ انہیں کم قیمت پر دودھ بیچنے سے روک رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق، سستا دودھ فروخت کرنے والے دکاندار کو دیگر دکانداروں کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں، جس پر مخدوم جمانی روڈ اور شالیمار کے علاقہ مکین دکاندار کی حمایت میں باہر نکل آئے اور حق میں نعرے بازی کی۔ دکاندار نے بتایا کہ چند افراد نے آکر انہیں کم قیمت پر دودھ فروخت نہ کرنے کا کہا تھا۔
یاد رہے کہ سکھر کے مختلف علاقوں، جن میں شالیمار، پرانہ سکھر، اور تانگہ اسٹینڈ شامل ہیں، میں دودھ فروشوں نے دودھ کی قیمت میں نمایاں کمی کر دی تھی۔ 200 روپے فی کلو میں فروخت ہونے والا دودھ اب 100 سے 120 روپے فی لیٹر دستیاب ہے۔ دکاندار کا کہنا ہے کہ انہوں نے دودھ کی سیل لگا دی ہے۔
دودھ فروشوں کے مطابق سردیوں کے موسم میں دودھ کی پیداوار میں اضافے اور طلب میں کمی کی وجہ سے قیمتیں کم کی گئی ہیں۔ دودھ کی قیمت میں کمی عوام کے لیے خوشخبری ثابت ہوئی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جہاں ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے، وہاں دودھ کی قیمت میں کمی مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے بڑی راحت کا سبب بنی ہے، اور اب غریب طبقے کے لیے بھی دودھ خریدنا آسان ہو گیا ہے۔

