انڈیا کے شمالی صوبے اُترپردیش کے شہر ایودھیا میں ایک 22 سالہ لڑکی کی لاش برہنہ حالت میں ایک نالے سے ملی ہے۔ واقعے کے بعد تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انڈین میڈیا کے مطابق گرفتار کیے جانے والے تینوں افراد ایودھیا کے رہائشی ہیں۔
ایودھیا کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راج کرن نایر نے بتایا کہ ملزمان کو انٹیلیجنس اور الیکٹرانک سرویلینس کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا اور انہوں نے اعترافِ جرم بھی کر لیا ہے۔ پولیس نے مقتولہ کے کپڑے اور ایک جلی ہوئی جیکٹ بھی برآمد کی ہے۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لڑکی کی موت زیادہ خون بہنے اور شدید صدمے کی وجہ سے ہوئی۔ اہلخانہ نے بتایا کہ ان کے جسم پر زخموں کے نشانات تھے، آنکھیں باہر نکلی ہوئی تھیں اور لاش کو رسی سے باندھ کر نالے میں پھینکا گیا تھا۔
یہ واقعہ دلت اکثریتی گاؤں کے قریب پیش آیا، جہاں لڑکی گزشتہ جمعرات کو ایک مذہبی پروگرام میں شرکت کے بعد لاپتہ ہو گئی تھی۔ پولیس کو سنیچر کی صبح اس کی مسخ شدہ لاش ملی۔ اہلخانہ نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے ان کی بیٹی کی گمشدگی کے بعد مناسب کارروائی نہیں کی۔

