دنیا کا سب سے قیمتی مادہ: ایک گرام کی قیمت 62,000,000,000,000 ڈالر

0

 لندن / خصوصی رپورٹ: اگر آپ کو لگتا ہے کہ سونا، ہیرے یا پلاٹینم سب سے قیمتی چیزیں ہیں، تو آپ غلط ہیں۔ درحقیقت، دنیا کا سب سے مہنگا مادہ اینٹی میٹر (Antimatter) ہے، جس کی قیمت ایک گرام کے لیے ناقابلِ یقین 62 ٹریلین ڈالر (£49 ٹریلین) تک پہنچ سکتی ہے۔



تاہم، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ چاہے آپ کے پاس اتنی رقم ہو بھی، تب بھی شاید پوری کائنات میں اس مادے کا ایک گرام بھی دستیاب نہ ہو۔ اینٹی میٹر کی نایابی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اسے زمین سے نکالا نہیں جا سکتا، بلکہ ایٹم در ایٹم جوڑ کر تیار کرنا پڑتا ہے، اور اس عمل میں اربوں سال لگ سکتے ہیں۔


اینٹی میٹر: حقیقت یا سائنس فکشن؟

اینٹی میٹر کو عام مادے کا "شیطانی جڑواں" کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ عام ایٹمز اور ذرات کا عکس ہوتا ہے۔ تاہم، اس کی سب سے حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ جب یہ عام مادے سے ٹکراتا ہے تو مکمل طور پر نیست و نابود ہو جاتا ہے اور ایک زبردست توانائی خارج ہوتی ہے۔

یہی تصور ہالی وڈ فلم Angels and Demons میں بھی دکھایا گیا تھا، جہاں اینٹی میٹر کو ایک تباہ کن دھماکے کے لیے استعمال کیا گیا۔ حقیقت میں، یہ مادہ سائنس دانوں کے لیے سب سے قیمتی اور پراسرار عناصر میں سے ایک ہے، لیکن اس کی سب سے بڑی مشکل اسے ذخیرہ کرنا اور محفوظ رکھنا ہے، کیونکہ یہ بنتے ہی فنا ہو جاتا ہے۔

کیا اینٹی میٹر مستقبل میں توانائی کا ذریعہ بن سکتا ہے؟

سائنس دانوں کے مطابق، اگر اینٹی میٹر کو محفوظ طریقے سے ذخیرہ کیا جا سکے، تو یہ مستقبل میں توانائی کا سب سے مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ ایک گرام اینٹی میٹر نیوکلئیر بم سے ہزاروں گنا زیادہ توانائی پیدا کر سکتا ہے، جو ایندھن کے تمام روایتی ذرائع کو پیچھے چھوڑ دے گا۔

لیکن کیا انسان اس عجیب و غریب مادے کو قابو میں رکھ سکے گا؟ یا یہ ہمیشہ ایک ناقابلِ حصول خزانہ بنا رہے گا؟ یہ سوال آج بھی دنیا کے بڑے سائنس دانوں کے لیے ایک معمہ ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !