کیا پارٹی سے نکالے گئے شیر افضل مروت قومی اسمبلی کی نشست چھوڑنے والے ہیں

0

 اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے نکالے گئے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ وہ محض افواہوں کی بنیاد پر اپنی نشست نہیں چھوڑیں گے اور پارٹی پر قبضے کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

یہ خبر بھی پڑھیں

شعیب شاہین سے جھگڑے کے بعد پی ٹی آئی نے فواد چوہدری کے بارے میں دو ٹوک اعلان کر دیا


اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، صحافی نے ان سے 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سوال کیا، جس پر شیر افضل مروت نے جواب دیا کہ پارٹی کے بانی نے کچھ ارکان کو نکالنے اور زین قریشی کو برقرار رکھنے کا کہا تھا۔ ان کے مطابق، زین قریشی کو شاہ محمود قریشی کی قربانیوں کی وجہ سے رعایت دی گئی، کیونکہ وہ ان کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ موروثی سیاست کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ ایک خاص تفریق ہے، تاہم پارٹی میں کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔



ان کا مزید کہنا تھا کہ جس طرح انہیں پارٹی سے نکالا گیا، اس کے بعد پی ٹی آئی میں کسی کا مستقبل محفوظ نہیں، کیونکہ کسی کو بھی غیر واضح طریقے سے نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی سے نکالے جانے کے لیے کم از کم کوئی معقول وجہ تو ہونی چاہیے۔ شیر افضل مروت نے شکایت کی کہ وہ چار دن سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں اخراج کی وجہ بتائی جائے، لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے پارٹی قیادت پر آمریت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو گمراہ کیا جا رہا ہے، جبکہ کچھ عناصر پارٹی پر قبضے کی کوشش میں مصروف ہیں۔


مزید برآں، انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ جب تک وہ زندہ ہیں، ان عناصر کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی الگ گروپ کی تشکیل نہیں کریں گے بلکہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ان کے مطابق، پارٹی میں سمجھدار لوگوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ آخر معاملات کس سمت جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پارٹی کی کوئی بڑی کامیابی سامنے نہیں آئی، اور تمام تر صورتحال بدنظمی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں تک محدود رہی۔ ان کے مطابق، پارٹی کا اصل ہدف بانی پی ٹی آئی کی بحالی، عوام کو شعور دینا اور مینڈیٹ واپس لینا ہونا چاہیے تھا، لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ اب وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے، کیونکہ وہ وکیل بھی ہیں اور کھل کر بات کریں گے۔ انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ محض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر مستعفی نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق، جب متعلقہ شخص خود انہیں بلائے گا اور وجوہات بتا کر مستعفی ہونے کا کہے گا، تب ہی وہ کوئی فیصلہ کریں گے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !