قومی ٹیم کی بد ترین شکست پر وسیم اکرم نے چھ بڑے ناموں کو ٹیم سے نکالنے کا مطالبہ کر دیا

0

 /مانیٹرنگ ڈیسک کراچی:سابق کپتان وسیم اکرم نے چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔میچ کے بعد نجی ٹی وی پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے وسیم اکرم نے ٹیم کی ناقص حکمتِ عملی، کمزور کارکردگی اور غیر مؤثر کھیل پر کھل کر تنقید کی۔



ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم لگاتار شکستوں کی عادی ہوچکی ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ وائٹ بال کرکٹ میں نئے باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کیا جائے جو بے خوف ہو کر کھیلیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس کے لیے ہمیں ٹیم سے پانچ یا چھے بڑے ناموں کو باہر بھی کرنا پڑے تو کر دینا چاہیے، چاہے اس کے نتیجے میں چھ مہینے مسلسل ناکامیاں ہی کیوں نہ دیکھنی پڑیں، لیکن نئے کھلاڑیوں کو مکمل سپورٹ فراہم کی جائے۔

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ 2026 ورلڈ کپ کے لیے تیاری ابھی سے شروع ہونی چاہیے کیونکہ موجودہ کھلاڑیوں کو بار بار مواقع دیے جا چکے ہیں، لیکن وہ توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔

انہوں نے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بولرز نے پانچ میچوں میں مجموعی طور پر صرف 24 وکٹیں حاصل کی ہیں، وہ بھی 60 کی اوسط سے، جو انتہائی تشویشناک ہے۔

سابق فاسٹ بولر نے یہ بھی بتایا کہ رواں سال ون ڈے کرکٹ میں 14 ممالک کی ٹیموں نے شرکت کی، جن میں عمان اور امریکا بھی شامل ہیں، اور پاکستان کی بولنگ کارکردگی ان میں دوسری بدترین رہی ہے۔

انہوں نے ٹیم مینجمنٹ پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی سی بی کو سلیکشن کمیٹی، کوچ اور سینئر لیجنڈری کھلاڑیوں کو بلا کر پوچھنا چاہیے کہ اسکواڈ کس بنیاد پر منتخب کیا گیا تھا۔

وسیم اکرم نے کہا کہ ہم پہلے دن سے خبردار کر رہے تھے کہ اسکواڈ درست نہیں ہے، تبدیلی کی ضرورت ہے، لیکن سلیکشن کمیٹی نے محض ایک گھنٹے کی میٹنگ کے بعد وہی پرانا اسکواڈ برقرار رکھا۔

انہوں نے کپتان کو بھی ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ایک لیڈر کے طور پر اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اپنی ہی کنڈیشنز میں کون سے کھلاڑی میچ ونر ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ٹیم حالات کا درست اندازہ لگانے میں بھی ناکام رہی۔

وسیم اکرم نے دبئی اسٹیڈیم میں پاکستانی شائقین کی کم تعداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں صرف 8 سے 10 فیصد تماشائی ہی موجود تھے، اور پاکستان کی بولنگ کے 17 ویں اوور تک وہ بھی میدان چھوڑ کر جا چکے تھے، جو ایک افسوسناک منظر تھا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !